جمعہ سے پہلے سنت موکدہ دو یا چار؟



فقہائے احناف کے نزدیک جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت موکدہ ہے۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل احادیث ہیں۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ يَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا ، لاَ يَفْصِلُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ.ِ
ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: حضور نبی کریم ﷺ جمعہ سے پہلے چار رکعات نماز پڑھتے تھے،اور ان کے درمیان فصل نہیں کرتے تھے۔[یعنی ایک ساتھ چار رکعات ادا فرماتے تھے] [ابن ماجہ،کتاب اقامۃ الصلاۃ،باب ماجاء فی الصلاۃ قبل الجمعۃ ، حدیث :۱۱۲۹]
نوٹ:اس حدیث مبارکہ میں"کان یرکع" ماضی استمراری کا صیغہ ہے جو دوام وتسلسل کا فائدہ دیتا ہے،تو مطلب ہواکہ نبی کریم ہمیشہ جمعہ سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔لہذا ثابت ہوا کہ جمعہ سے پہلے چاررکعات سنت موکدہ ہے نہ کہ دو۔
عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا , لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ , ثُمَّ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ أَرْبَعًا "
ترجمہ:حضرت جبلہ بن سحیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے چار رکعات ایک ساتھ پڑھتے تھے،پھر جمعہ کے بعد دو پھر چار۔[شرح معانی الآثار،کتاب الصلاۃ،باب التطوع باللیل والنھار کیف ھو؟، حدیث :۱۹۶۵]
اس حدیث شریف سے بھی معلوم ہوا کہ جمعہ سے پہلے چار رکعات سنت موکدہ ہے نہ کہ دو۔
اس کے برخلاف بعض لوگ کہتے ہیں کہ جمعہ سے پہلے صرف دو رکعت سنت موکدہ ہے۔اور اپنے دعوے پر مندرجہ ذیل حدیث کو پیش کرتے ہیں۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ « أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ » . قَالَ لاَ . قَالَ « قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ » .
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک شخص اُس وقت مسجد میں آیا جبکہ نبی لوگوں کو خطبہ ارشاد فر مارہے تھے،آپ نے آنے والے شخص سے کہا: ائے فلاں کیا تم نے نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں،آپ نے فرمایا: اٹھ اوردو رکعت نماز پڑھ ۔ [بخاری،کتاب الجمعہ،باب اذا رای الامام رجلا جاء وھو یخطب امرہ ان یصلی رکعتین، حدیث:۹۳۰]
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ قبل جمعہ صرف دو ہی رکعت سنت موکدہ ہے،کیونکہ اگر چار ضروری ہوتا تو نبی اُس شخص کو چار پڑھنے کا حکم دیتے،مگر ایسا نہیں ہوا ، لہذا ثابت ہواکہ قبلِ جمعہ صرف دو ہی رکعت ضروری ہے۔ ہاں اگر وہ پہلے سے آئے تو قبل جمعہ جتنی نوافل چاہے پڑھے مگر ضروری صرف دو ہی ہے،اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو ہی پڑھنے کا حکم دیا۔
دلیل کی صحت؟ یہ دلیل صحیح ہے یا نہیں، کسی حتمی نتیجے پر پہونچنے سےپہلے چند سوالات اور اس کے جوابات کو ذہن نشین کر لیں۔
۱: وہ صحابی کون تھے،جو جمعہ کے دن خطبہ کے وقت تشریف لائے تھے؟
۲:عہد رسالت مآب میں سنت اور نفلی نماز گھر میں پڑھنے کا رواج تھا یا مسجد میں آکر؟
۳: خطبہ کے وقت خطبہ سننے کے علاوہ کسی اور کام میں یا نماز میں مشغول ہونا کیسا ہے؟
۴: کیا وجہ تھی کہ نبی کریم نے انہیں عین خطبہ کے دوران نماز پڑھنے کا حکم دیا؟
۵: وہ نماز جسے مسجد میں آنے کے بعد حضور نے پڑ ھنے کا حکم دیا وہ نماز "تحیۃ المسجد" تھی یا قبل جمعہ کی سنت؟
جوابات: ۱ : وہ صحابی حضرت سُلیک غطفانی رضی اللہ عنہ تھے۔[مسلم،کتاب الجمعہ،باب التحیۃ والامام یخطب،حدیث:۸۷۵۔ابو داؤد،کتاب الصلاۃ،باب اذا دخل الرجل والامام یخطب،حدیث:۱۱۱۶]
نمبر۲:عہد رسالت مآب میں عام رواج یہ تھا کہ صحابہ نماز سے پہلے اور بعد کی سنت اور نفلی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھا کرتے تھے۔کیونکہ حضور نبی کریم ان کو ا یسا ہی کرنے کی ہدایت دیتے تھے اور اسی پر ابھارا کرتے تھے ۔جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: میں نے نبی کریم سے پوچھا کہ نفلی نمازیں مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟ آپ نے فر مایا کہ: تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے[یعنی مسجد سے بالکل ملا ہوا ہے کہ مسجد جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے] اس کے باوجود مجھے فرض نمازوں کے علاوہ[سنت اور]نفلی نمازیں اپنے گھر میں پڑھنا مسجد میں پڑھنے سے زیادہ پسند ہے۔[شمائل ترمذی،باب صلاۃ التطوع فی البیت،حدیث:۲۹۷]
نمبر ۳:خطبہ نماز کا حصہ ہے۔یعنی جس طرح حالت نماز میں کھانا،پینا،بات چیت کرنا یا کسی بھی دوسرے کام میں مشغول ہونا جائز نہیں ہے یہاں تک"کسی کو نیکی کا حکم دینا اور بری بات سے منع کرنا" جو فرائض میں سے ایک فریضہ ہے وہ بھی حالت نماز میں جائز نہیں ہے۔اسی طرح یہ سب باتیں خطبہ کے دوران بھی جائز نہیں ہے۔جیسا کہ حضور نبی کریم نے فر مایا: جب تم نے خطبہ کے دوران کسی سے کہا کہ"خاموش رہو" تو تم نے غلط کیا۔[بخاری،حدیث:۹۳۴، مسلم،حدیث:۸۵۱] یوں ہی کثیر روایات میں صحیح اسناد کے ساتھ یہ بات آئی ہے کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو اس وقت نہ بات چیت کرنا صحیح ہے اور نہ ہی کوئی نماز پڑھنا۔چند روایات مندرجہ ذیل ہیں۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِذَا قَعَدَ الإِمَام عَلَى الْمِنْبَرِ فَلاَ صَلاَةَ.
ترجمہ:حضرت عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا"جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو کوئی نماز نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلاۃ،من کا ن یقول اذا خطب الامام فلا یصلی ،حدیث:۵۲۱۳۔]
عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : خُرُوجُ الإِمَامِ يَقْطَعُ الصَّلاَة.
ترجمہ:مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ امام کا خطبہ کے لئے نکلنا نماز کو ختم کر دیتا ہے۔یعنی اب نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔[مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلاۃ،من کا ن یقول اذا خطب الامام فلا یصلی ،حدیث:۵۲۱۷۔]
ِعَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّهُمَا كَانَا يَكْرَهَانِ الصَّلاَة وَالْكَلاَمَ بَعْدَ خُرُوجِ الإِمَام.
ترجمہ:حضرت عطا کہتے ہیں کہ:حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما امام کے خطبہ کے لئے نکلنے کے بعد نماز پڑھنے اور بات چیت کو مکروہ قرار دیتے تھے۔[مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلاۃ،من کا ن یقول اذا خطب الامام فلا یصلی ،حدیث:۵۲۱۸۔]
عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : أَدْرَكْتُ عُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَكَانَ الإِمَام إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَكْنَا الصَّلاَة.
ترجمہ:حضرت ثعلبہ بیان کرتے ہیں کہ:میں نے حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کا زمانہ پایا،تو جمعہ کے دن جب امام خطبہ کے لئے نکلتے ہم لوگ نماز پڑھنا چھوڑ دیتے تھے۔[مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلاۃ،من کا ن یقول اذا خطب الامام فلا یصلی ،حدیث:۵۲۱۶۔]
مذکورہ روایات سے معلوم ہوا کہ خطبہ کے دوران کوئی نماز پڑھنا درست نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دیر سے اُس وقت تشریف لائے جب امام خطبہ کے لئے کھڑے ہو چکے تھے تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی۔
نمبر ۴:پھر کیا وجہ تھی کہ نبی کریم نے انہیں عین خطبہ کے دوران نماز پڑھنے کا حکم دیا؟
جواب:اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ نہایت غریب تھے اور تنگی کے شکار تھے،یہاں تک کہ ان کے جسم پر موجود کپڑے کی حالت بھی بہت ابتر تھی تو آپ نے انہیں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا حکم دیا تاکہ لوگ ان کی حالت کو دیکھ لیں اور اُن پر صدقہ کریں۔اور اتنی دیر تک آپ نے خطبے کو روک دیا پھر جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو آپ نے اپنا خطبہ پھر سے شروع فرمایا۔اِن باتوں کی دلیل وہ روایات ہیں جو حضرت سلیک رضی اللہ عنہ سے متعلق محدثین نے بیان فر مایا ہے۔اُن میں سے کچھ یہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَلَّيْتَ قَالَ لَا قَالَ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَاهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَ فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ هَذَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَمَرْتُ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ ثُمَّ جَاءَ الْآنَ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا فَانْتَهَرَهُ وَقَالَ خُذْ ثَوْبَكَ
ترجمہ:حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعے کے دن ایک آدمی فقیرانہ حالت میں آیا جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے اس سے پوچھا: ’’تو نے نماز پڑھی ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ’’دو رکعتیں پڑھ۔‘‘ پھر آپ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی رغبت دلائی۔ لوگوں نے (صدقے میں) کپڑے دینے شروع کیے تو آپ نے اسے ان میں سے دو کپڑے دیے۔ جب دوسرا جمعہ ہوا تو وہ پھر آیا۔ اس وقت بھی آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ نے پھر لوگوں کو صدقے کی طرف رغبت دلائی تو اس نے بھی اپنا ایک کپڑا اتار دیا۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ پچھلے جمعے کو پراگندہ حالت میں آیا تھا تو میں نے لوگوں کو صدقے کا حکم دیا۔ لوگوں نے اپنے (زائد) کپڑے صدقے میں دیے۔ میں نے اسے دو کپڑے دینے کا حکم دیا۔ اب یہ پھر آیا تو میں نے لوگوں کو پھر صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی انھی دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا اتار کر دے دیا۔ پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اٹھالے اپنا کپڑا۔[سنن نسائی،کتاب الجمعہ،باب حث الامام علی الصدقۃ یوم الجمعۃ فی خطبتہ،حدیث:۱۴۰۸]
اِس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کر ان پر صدقہ کریں، لہٰذا دو رکعت پڑھنے کا حکم عام نہیں بلکہ ان کے ساتھ خاص تھا ۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَيْثُ أَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، أَمْسَكَ عَنِ الْخُطْبَةِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ ، ثُمَّ عَادَ إِلَى خُطْبَتِهِ.
ترجمہ:حضرت محمد بن قیس سے روایت ہے کہ: حضور نبی کریم نے جب اُن کو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تو اپنے خطبے کو روک دیا یہاں تک کہ وہ اپنی دو رکعت نماز سے فارغ ہوگئے پھر آپ نے خطبہ دیا۔ [مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلاۃ،باب فی الرجل یجئی یوم الجمعۃ والامام یخطب،یصلی رکعتین ،حدیث:۵۲۰۶۔]
نمبر ۵:وہ نماز جسے مسجد میں آنے کے بعد حضور نے پڑ ھنے کا حکم دیا وہ نماز "تحیۃ المسجد" تھی یا قبل جمعہ کی سنت؟
اس بات پر تمام شارحین حدیث کا اتفاق ہے کہ آپ نے جو نماز دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا وہ قبل جمعہ کی سنت نماز نہیں تھی بلکہ "تحیۃ المسجد" کی دو رکعت نماز تھی۔ اور امام شافعی،احمد،اسحاق اور دیگر فقہائے محدثین اسی حدیث کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی جمعہ کے دن خطبہ کے وقت مسجد میں آئے تو اس کے لئے دو رکعت"تحیۃ المسجد" کی نماز پڑھنا درست ہے۔جب کہ امام اعظم ابو حنیفہ اپنے دلائل کی بنیاد پر اِس واقعہ کو اُنہی کے ساتھ خاص مانتے ہیں اور عام لوگوں کے لئے خطبے کے وقت نفلی نماز میں مشغول ہونے کو جائز نہیں قرار دیتے۔
بہرحال یہ بات طئے ہے کہ اس حدیث میں جو آیا کہ آپ نے دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا وہ تحیۃ المسجد کی نماز تھی،نہ کہ جمعہ سے پہلے کی سنت نماز ۔اوریہی وجہ ہے کہ امام مسلم نے اس حدیث کو بیان کرنے کے لئے جو باب باندھا وہ اِس طرح کہ" باب التحیۃ والامام یخطب" امام کے خطبہ دیتے وقت تحیت کا باب۔
جب بدلائل یہ ثابت ہوگئی کہ وہ نماز جمعہ سے پہلے کی سنت نماز تھی ہی نہیں تو پھر اُس سے یہ استدلال کرنا کہ جمعہ سے پہلے صرف دو رکعت سنت نماز ہے،کس قدر لایعنی بات ہے۔فافھم وتدبر۔


متعلقہ عناوین



نماز کی اہمیت وفضیلت نماز پڑھنے کا طریقہ نماز کے شرائط وفرائض نماز کے واجبات اورسنتیں نماز کے مکروہات نماز کے مفسدات سجدہ سہو کے مسائل قراءت میں غلطی کے مسائل نماز جنازہ کے مسائل نماز تراویح کے مسائل نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نماز اشراق اور چاشت نماز توبہ اور تہجد نماز حاجت نماز استخارہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز عیدین کی نماز مسافر کی نماز مریض کی نماز



دعوت قرآن