کھڑے ہو کر پانی وغیرہ پینا جائز ہے؟



کھڑے ہو کر پانی وغیرہ پیا جائے یا بیٹھ کر؟ اس بارے میں دونوں طرح کی احادیث وارد ہیں۔ پہلے ایک نظر ان احادیث پر ڈال لیں جن سے کھڑے ہو کر پانی پینے کا جواز مستفاد ہوتا ہے۔
حدیث: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ النَّزَّالِ قَالَ أَتَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى بَابِ الرَّحَبَةِ فَشَرِبَ قَائِمًا فَقَالَ إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ .
ترجمہ:حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بابِ رحبہ پر تشریف لائے تو کھڑے ہو کر پیا اور فرمایا بے شک کچھ لوگ کھڑے ہوکر پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں جبکہ میں نے نبی کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا جیسا تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا۔[صحیح بخاری،کتاب الاشربہ،باب الشرب قائما،حدیث:۵۶۱۵]
حدیث: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ جَدَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا كَبْشَةُ الأَنْصَارِيَّةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ : دَخَلَ عَلَيْهَا ، وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ ، فَشَرِبَ مِنْهَا ، وَهُوَ قَائِمٌ ، فَقَطَعَتْ فَمَ الْقِرْبَةِ تَبْتَغِي بَرَكَةَ ، مَوْضِعِ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ.
ترجمہ:حضرت عبد الرحمن بن ابی عمرہ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں جن کا نام کبشہ انصاریہ ہے۔بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ان کے یہاں تشریف لائے اور ان کے پاس مشکیزہ لٹک رہا تھا تو آپ نے اس سے کھڑے ہوکر پیا۔تو انہوں نےمشکیزے کا منہ کاٹ کر رکھ لیا،نبی کے منہ رکھ کر پینے کی جگہ سے برکت حاصل کرنے کی نیت سے۔[ابن ماجہ،کتاب الاشربہ، باب الشرب قائما،حدیث:۳۴۲۳]
حدیث: حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْكُوفِىُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَحْنُ نَمْشِى وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ.
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم کے زمانے میں چلتے ہوئے کھاتے اور کھڑے ہوکر پیتے تھے۔[ترمذی،کتاب الاشربہ،باب ماجاء فی النھی عن الشرب قائما،حدیث:۱۸۸۰]
حدیث: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا.
ترجمہ:حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کو کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر پیتے ہوئے دیکھا۔[ترمذی،کتاب الاشربہ،باب ماجاء فی الرخصۃ فی الشرب قائما،حدیث:۱۸۸۳]
حدیث :حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الْمُعَارِكِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ شُرْبِ الرَّجُلِ وَهُوَ قَائِمٌ ؟ قَالَ : لاَ بَأْسَ بِهِ.
ترجمہ:ابوالمعارک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو کھڑے ہوکر پیئے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔[مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب الاشربہ،باب من رخص فی الشرب قائما،حدیث:۲۴۵۸۱]
ِحدیث : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عن مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعْدًا وَعَائِشَةَ كَانَا لاَ يَرَيَانِ بَأْسًا بِالشُّرْبِ قَائِمًا.
ترجمہ:حضرت امام زہری بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کھڑے ہوکر پینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔[مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب الاشربہ،باب من رخص فی الشرب قائما،حدیث:۲۴۵۸۳]
ِحدیث : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلاَنَ ، قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عْنهُ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِهِ ، إِنْ شِئْتَ قَائِمًا ، وَإِنْ شِئْتَ قَاعِدًا.
ترجمہ:حضرت عبد الرحمن بن عجلان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم نخعی سے کھڑے ہوکر پینے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ:کوئی حرج نہیں ہے چاہو تو کھڑے ہوکر پیو اور چاہوتو بیٹھ کر پیو۔[مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب الاشربہ،باب من رخص فی الشرب قائما،حدیث:۲۴۵۸۸]
اب ایک نظر ان احادیث طیبہ پر ڈالیں جن میں کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت آئی ہیں۔
حدیث: حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا.
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے کھڑے ہوکر پینے سے سختی سے ڈانٹا۔[صحیح مسلم،کتاب الاشربہ،باب کراھیۃ الشرب قائما،حدیث:۲۰۲۴]
حدیث: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا. قَالَ قَتَادَةُ فَقُلْنَا فَالأَكْلُ فَقَالَ ذَاكَ أَشَرُّ أَوْ أَخْبَثُ.
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے اس بات سے منع کیا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیئے،حضرت قتادہ کہتے ہیں:ہم نے عرض کیا:تو کھانا؟ آپ نے فرمایا وہ تو اور زیادہ برا ہے۔[صحیح مسلم، باب کراھیۃ الشرب قائما،حدیث:۲۰۲۴]
حدیث: وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ وَابْنِ الْمُثَنَّى - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِى عِيسَى الأُسْوَارِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا.ِ
ترجمہ:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا۔[صحیح مسلم، باب کراھیۃ الشرب قائما،حدیث:۲۰۲۴]
حدیث: حَدَّثَنِى عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِى الْفَزَارِىَّ - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ أَخْبَرَنِى أَبُو غَطَفَانَ الْمُرِّىُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا فَمَنْ نَسِىَ فَلْيَسْتَقِئْ ».
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا تم میں کوئی شخص ہرگز کھڑے ہو کر نہ پیئے اور جو شخص بھول کر پی لے تو وہ قئی کر دے۔[صحیح مسلم، باب کراھیۃ الشرب قائما،حدیث:۲۰۲۴]
حدیث : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الشُّرْبَ قَائِمًا.
ترجمہ:منصور حضرت حسن سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کھڑے ہو کر پینے کو مکروہ سمجھتے تھے۔[مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الاشربہ،باب من کرہ الشرب قائما،حدیث:۲۴۶۰۲]
حدیث :حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن الزهري عن رجل عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو يعلم الذي يشرب وهو قائم ما في بطنه لاستقاءه .
ترجمہ:حضوراکرم کھڑے ہوکر پینے والا اگر یہ جان لے کہ اس کے پیٹ میں کیا نقصان ہورہا ہے، تو وہ اس کوقے کرکے نکال دے ۔ [مسند احمد،مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ،حدیث:۷۷۹۵]
حدیث :حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا محمد بن جعفر أنا شعبة عن أبي زياد الطحان قال سمعت أبا هريرة يقول عن النبي صلى الله عليه و سلم : انه رأى رجلا يشرب قائما فقال له قه قال لمه قال أيسرك أن يشرب معك الهر قال لا قال فإنه قد شرب معك من هو شر منه الشيطان.
ترجمہ:حضور اکرم نے ایک آدمی کو کھڑے ہوئے پانی پیتے دیکھا تو فرمایا:قے کرلو، اس نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا : کیا تم کو پسند ہے کہ بلی تمہارے ساتھ پانی پئے؟اس نے کہا : نہیں ، تو فرمایا : بلی سے بھی بدتر چیز نے تمہارے ساتھ پیا اور وہ شیطان ہے۔[مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ،حدیث:۷۹۹۰]
دونوں طرح کی احادیث مبارکہ پڑھنے کے بعد الجھن بڑھ جاتی ہے اور سمجھنا دشوار ہوتا ہے لیکن شارحین حدیث کے اقوال کو پڑھنے کے بعد کوئی الجھن باقی نہیں رہتی۔شارح مسلم امام نووی ان احادیث سے متعلق فرماتے ہیں:
اِعْلَمْ أَنَّ هَذِهِ الْأَحَادِيث أَشْكَلَ مَعْنَاهَا عَلَى بَعْض الْعُلَمَاء حَتَّى قَالَ فِيهَا أَقْوَالًا بَاطِلَة ، وَزَادَ حَتَّى تَجَاسَرَ وَرَامَ أَنْ يُضَعِّف بَعْضهَا ، وَادَّعَى فِيهَا دَعَاوِي بَاطِلَة لَا غَرَض لَنَا فِي ذِكْرهَا ، وَلَا وَجْه لِإِشَاعَةِ الْأَبَاطِيل وَالْغَلَطَات فِي تَفْسِير السُّنَن ، بَلْ نَذْكُر الصَّوَاب ، وَيُشَار إِلَى التَّحْذِير مِنْ الِاغْتِرَار بِمَا خَالَفَهُ ، وَلَيْسَ فِي هَذِهِ الْأَحَادِيث بِحَمْدِ اللَّه تَعَالَى إِشْكَال ، وَلَا فِيهَا ضَعْف ، بَلْ كُلّهَا صَحِيحَة ، وَالصَّوَاب فِيهَا أَنَّ النَّهْي فِيهَا مَحْمُول عَلَى كَرَاهَة التَّنْزِيه . وَأَمَّا شُرْبه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فَبَيَان لِلْجَوَازِ ، فَلَا إِشْكَال وَلَا تَعَارُض ، وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ يَتَعَيَّن الْمَصِير إِلَيْهِ ، وَأَمَّا مَنْ زَعَمَ نَسْخًا أَوْ غَيْره فَقَدْ غَلِطَ غَلَطًا فَاحِشًا ، وَكَيْف يُصَار إِلَى النَّسْخ مَعَ إِمْكَان الْجَمْع بَيْن الْأَحَادِيث لَوْ ثَبَتَ التَّارِيخ وَأَنَّى لَهُ بِذَلِكَ . وَاللَّهُ أَعْلَم . فَإِنْ قِيلَ : كَيْف يَكُون الشُّرْب قَائِمًا مَكْرُوهًا وَقَدْ فَعَلَهُ النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَالْجَوَاب : أَنَّ فِعْله صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بَيَانًا لِلْجَوَازِ لَا يَكُون مَكْرُوهًا ، بَلْ الْبَيَان وَاجِب عَلَيْهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَيْف يَكُون مَكْرُوهًا وَقَدْ ثَبَتَ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّة مَرَّة وَطَافَ عَلَى بَعِير مَعَ أَنَّ الْإِجْمَاع عَلَى أَنَّ الْوُضُوء ثَلَاثًا وَالطَّوَاف مَاشِيًا أَكْمَل ، وَنَظَائِر هَذَا غَيْر مُنْحَصِرَة ، فَكَانَ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَبِّه عَلَى جَوَاز الشَّيْء مَرَّة أَوْ مَرَّات ، وَيُوَاظِب عَلَى الْأَفْضَل مِنْهُ ، وَهَكَذَا كَانَ أَكْثَر وُضُوئِهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاث ثَلَاثًا ، وَأَكْثَر طَوَافه مَاشِيًا ، وَأَكْثَر شُرْبه جَالِسًا ، وَهَذَا وَاضِح لَا يَتَشَكَّك فِيهِ مَنْ لَهُ أَدْنَى نِسْبَة إِلَى عِلْم . وَاللَّهُ أَعْلَم .
ترجمہ:جان لو! ان احادیث کے معانی کو سمجھنا کچھ علماء کے لئے مشکل ہوگیا اسی وجہ سے ان لوگوں نے ایسی باتیں کیں جو قابل ذکر نہیں ہے اور ایسے دعوے کئے جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ان احادیث میں کوئی مشکل نہیں ہے اور کوئی ضعیف نہیں ہے بلکہ سب صحیح ہے۔اور مطلب یہ ہے کہ جن احادیث میں کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا گیا ہے وہ ممانعت مکروہ تنزیہی کے طور پر ہے اور جن احادیث میں آیا کہ نبی کریم نے کھڑے ہو کر پیا وہ جواز کو بیان کرنے کے لئے تھا۔لہذا کوئی اشکال نہیں ہے۔رہا یہ اعتراض کہ جو کام نبی نے کیا وہ کیسے مکروہ ہوسکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب نبی نے جواز کو بیان کرنے کے لئے کیا تو آپ کا وہ عمل مکروہ نہیں ہوا کیونکہ اس کا بیان کرنا تو آپ پر واجب تھا پھر کیسے مکروہ ہوسکتا ہے جیسے کہ حدیث مبارکہ سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے وضو میں اعضاء کو ایک ایک بار دھویا،اسی طرح یہ بھی آیا کہ آپ نے اونٹ پر سوار ہوکر طواف کیا۔جب کہ اس بات پر اجماع ہے کہ وضو میں اعضا کو تین تین بار دھویا جائے اور طواف پیدل کیا جائے، اس طرح کی اور بھی بہت ساری مثالیں ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ نبی کریم کسی کام کے جائز ہونے کو بیان کرنے کے لئے اسے ایک مرتبہ یا چند مرتبہ کرتے تھے اور ہمیشگی اسی طریقہ پر برتتے تھے جو افضل ہے۔اسی طرح نبی کریم نے زیادہ تر بیٹھ کر پانی پیا کیونکہ یہی افضل تھا اور جائز ہونے کو بیان کرنے کے لئے چند مرتبہ کھڑے ہو کر پانی پیا۔[شرح مسلم للنووی]
کچھ علماء نے دونوں طرح کی احادیث میں اس طرح تطبیق دیا ہے۔
۱۔ کھڑے ہوکر پینا بلا کسی عذر کے مکروہ ہے تنزیھا، کوئی عذر ہو جیسے بیماری یا بیٹھنے کی مناسب جگہ نہ ہو ، رش ہو، میدان جنگ ہو،وغیرہ اعذار کی بناء پر کھڑے ہوکر پینا بلا کراہت جائز ہے۔
۲۔ امام طحاوی کی رائے یہ ہے کہ: ممانعت طبی نقطہء نظر سے ہے مضر صحت ہونے کی وجہ سے، شرعی ممانعت نہیں ہے۔
۳۔مسنون تو بیٹھ کر پینا ہی ہے، اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ بھی بیٹھ کر پینے کی تھی ، سوائے آب زمزم اور وضوء کا بچا ہوا پانی ، ان دونوں کو کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے ، یعنی یہ دونوں صورتیں ممانعت سے مستثنی ہیں۔ان کے علاوہ صورتوں میں مکروہ ہے۔
مذکورہ بالا احادیث اور اقوال سے ثابت ہوا کہ بلاکسی وجہ کے کھڑے ہو کر پانی پینا غیر مناسب ہے اور اگر کسی معقول وجہ سے ہو جیسے بیٹھنے کی مناسب جگہ نہ ہو یا بھیڑ بہت زیادہ ہو یا جنگ کا میدان ہو،تو ان سب صورتوں میں بلاکراہت کھڑے ہو کر پانی وغیرہ پینا جائز و درست ہے۔


متعلقہ عناوین



نماز کی اہمیت وفضیلت نماز پڑھنے کا طریقہ نماز کے شرائط وفرائض نماز کے واجبات اورسنتیں نماز کے مکروہات نماز کے مفسدات سجدہ سہو کے مسائل قراءت میں غلطی کے مسائل نماز جنازہ کے مسائل نماز تراویح کے مسائل نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نماز اشراق اور چاشت نماز توبہ اور تہجد نماز حاجت نماز استخارہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز عیدین کی نماز مسافر کی نماز مریض کی نماز



دعوت قرآن