ابو رافع کے قتل کا واقعہ
ابو رافع کے قتل کا تفصیلی واقعہ امام بخاری نے روایت کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے۔
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ الْيَهُودِيِّ رِجَالًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعِينُ عَلَيْهِ وَكَانَ فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهُ وَقَدْ غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ اجْلِسُوا مَكَانَكُمْ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ وَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ لَعَلِّي أَنْ أَدْخُلَ فَأَقْبَلَ حَتَّى دَنَا مِنْ الْبَابِ ثُمَّ تَقَنَّعَ بِثَوْبِهِ كَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ فَهَتَفَ بِهِ الْبَوَّابُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ فَدَخَلْتُ فَكَمَنْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الْأَغَالِيقَ عَلَى وَتَدٍ قَالَ فَقُمْتُ إِلَى الْأَقَالِيدِ فَأَخَذْتُهَا فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ وَكَانَ فِي عَلَالِيَّ لَهُ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ فَجَعَلْتُ كُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنْ دَاخِلٍ قُلْتُ إِنْ الْقَوْمُ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوا إِلَيَّ حَتَّى أَقْتُلَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ لَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنْ الْبَيْتِ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ قَالَ مَنْ هَذَا فَأَهْوَيْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ وَأَنَا دَهِشٌ فَمَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا وَصَاحَ فَخَرَجْتُ مِنْ الْبَيْتِ فَأَمْكُثُ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ إِنَّ رَجُلًا فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ قَالَ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أَثْخَنَتْهُ وَلَمْ أَقْتُلْهُ ثُمَّ وَضَعْتُ ظِبَةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ حَتَّى أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى دَرَجَةٍ لَهُ فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَأَنَا أُرَى أَنِّي قَدْ انْتَهَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ فَانْكَسَرَتْ سَاقِي فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَةٍ ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى جَلَسْتُ عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَعْلَمَ أَقَتَلْتُهُ فَلَمَّا صَاحَ الدِّيكُ قَامَ النَّاعِي عَلَى السُّورِ فَقَالَ أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَهْلِ الْحِجَازِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ النَّجَاءَ فَقَدْ قَتَلَ اللَّهُ أَبَا رَافِعٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ ابْسُطْ رِجْلَكَ فَبَسَطْتُ رِجْلِي فَمَسَحَهَا فَكَأَنَّهَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ
ترجمہ : حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع یہودی (کے قتل) کے لیے چند انصاری صحابہ کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا۔ یہ ابورافع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ حجاز میں اس کا ایک قلعہ تھا اور وہیں وہ رہا کرتا تھا۔ جب اس کے قلعہ کے قریب یہ لوگ پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ اور لوگ اپنے مویشی لے کر (اپنے گھروں کو) واپس ہو چکے تھے۔ عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرے رہو میں (اس قلعہ پر) جا رہا ہوں اور دربان پر کوئی تدبیر کروں گا۔ تاکہ میں اندر جانے میں کامیاب ہو جاؤں۔ چنانچہ وہ (قلعہ کے پاس) آئے اور دروازے کے قریب پہنچ کر انہوں نے خود کو اپنے کپڑوں میں اس طرح چھپا لیا جیسے کوئی قضائے حاجت کر رہا ہو۔ قلعہ کے تمام آدمی اندر داخل ہو چکے تھے۔ دربان نے آواز دی، اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو جلد آ جا، میں اب دروازہ بند کر دوں گا۔ (عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے کہا) چنانچہ میں بھی اندر چلا گیا اور چھپ کر اس کی کارروائی دیکھنے لگا۔ جب سب لوگ اندر آ گئے تو اس نے دروازہ بند کیا اور کنجیوں کا گچھا ایک کھونٹی پر لٹکا دیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اب میں ان کنجیوں کی طرف بڑھا اور میں نے انہیں لے لیا، پھر میں نے قلعہ کا دروازہ کھول لیا۔ ابورافع کے پاس رات کے وقت داستانیں بیان کی جا رہی تھیں اور وہ اپنے خاص بالاخانے میں تھا۔ جب داستان گو اس کے یہاں سے اٹھ کر چلے گئے تو میں اس کمرے کی طرف چڑھنے لگا۔ اس عرصہ میں، میں جتنے دروازے اس تک پہنچنے کے لیے کھولتا تھا انہیں اندر سے بند کرتا جاتا تھا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اگر قلعہ والوں کو میرے متعلق علم بھی ہو جائے تو اس وقت تک یہ لوگ میرے پاس نہ پہنچ سکیں جب تک میں اسے قتل نہ کر لوں۔ آخر میں اس کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے بال بچوں کے ساتھ (سو رہا) تھا مجھے کچھ اندازہ نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں ہے۔ اس لیے میں نے آواز دی، یا ابا رافع؟ وہ بولا کون ہے؟ اب میں نے آواز کی طرف بڑھ کر تلوار کی ایک ضرب لگائی۔ اس وقت میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہوئی کہ میں اس کا کام تمام نہیں کر سکا۔ وہ چیخا تو میں کمرے سے باہر نکل آیا اور تھوڑی دیر تک باہر ہی ٹھہرا رہا۔ پھر دوبارہ اندر گیا اور میں نے آواز بدل کر پوچھا، ابورافع! یہ آواز کیسی تھی؟ وہ بولا تیری ماں غارت ہو۔ ابھی ابھی مجھ پر کسی نے تلوار سے حملہ کیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر (آواز کی طرف بڑھ کر) میں نے تلوار کی ایک ضرب اور لگائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ اگرچہ میں اسے زخمی تو بہت کر چکا تھا لیکن وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ اس لیے میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی جو اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی۔ مجھے اب یقین ہو گیا کہ میں اسے قتل کر چکا ہوں۔ چنانچہ میں نے دروازے ایک ایک کر کے کھولنے شروع کئے۔ آخر میں ایک زینے پر پہنچا۔ میں یہ سمجھا کہ زمین تک میں پہنچ چکا ہوں (لیکن ابھی میں پہنچا نہ تھا) اس لیے میں نے اس پر پاؤں رکھ دیا اور نیچے گر پڑا۔ چاندنی رات تھی۔ اس طرح گر پڑنے سے میری پنڈلی ٹوٹ گئی۔ میں نے اسے اپنے عمامہ سے باندھ لیا اور آ کر دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ معلوم کر لوں کہ آیا میں اسے قتل کر چکا ہوں یا نہیں؟ جب مرغ نے آواز دی تو اسی وقت قلعہ کی فصیل پر ایک پکارنے والے نے کھڑے ہو کر پکارا کہ میں اہل حجاز کے تاجر ابورافع کی موت کا اعلان کرتا ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ چلنے کی جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ابورافع کو قتل کرا دیا۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا پاؤں پھیلاؤ میں نے پاؤں پھیلایا تو آپ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تو پاؤں اتنا اچھا ہو گیا جیسے کبھی اس میں مجھ کو کوئی تکلیف ہوئی ہی نہ تھی۔[صحیح بخاری،کتاب المغازی،باب قتل ابی رافع عبد اللہ بن ابی الحقیق،حدیث:۴۰۳۹]
مذکورہ بالاروایت میں ابو رافع کے جرائم کو اجمالا دو لفظوں میں بیان کیا گیا ہے کہ" وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیا کرتا تھا اور آپ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا"۔لیکن کتب تاریخ میں بیان کردہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے عزائم انتہائی خطرناک تھے،وہ مسلسل اسلامی ریاست کے خلاف سازشوں میں لگا رہتا تھا اور اس کی پوری کوشش تھی کہ مدینہ کی پوری اسلامی ریاست کا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹا دے۔چنانچہ جنگ احزاب جس میں قریش اور عرب کے تمام قبیلے متحد ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے،اسی ابورافع کی کوششوں سے ہوا تھا اور باوجود اس کے کہ یہودیوں کا مسلمانوں سے امن وآشتی کا معاہدہ تھا،اس نے اس جنگ کے اخراجات اور لشکر کی تیاری میں بھر پور مدد کیا تھا۔جب اس کی فتنہ انگیزی حد سے زیادہ بڑھ گئی تو قبیلہ خزرج کے چند صحابہ نے یہ سوچا کہ اس فتنے اور فساد کی آگ کو ہمیشہ کے لئے بجھا دی جائے،ان کی خواہش پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ کرام کا ایک دستہ حضرت عبد اللہ بن عتیک کے زیر قیادت اس کی طرف بھیجا اور انہوں نے انتہائی زیرکی اور پامردی سے اس فتنے کی آگ کو ہمیشہ کے لئے بجھا دیا۔
جسٹس پیر محمد کرم شاہ ازہری ابورافع کی فتنہ انگیزی اور اس کے معاندانہ کاروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ابو رافع سلام بن ابی الحقیق ان لوگوں میں سے تھا جن کی کوششوں اور ترغیب سے مکہ کے قریش اور عرب کے دیگر قبائل نے ایک لشکر جرار کے ساتھ مدینہ طیبہ پر چڑھائی کی تھی اور مسلسل کئی روز تک مدینہ کا محاصرہ کئے رکھا تھا۔یہ لشکر مسلمانوں کو نیست ونابود کر نے کے لئے مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوا تھا۔سلام بن ابی الحقیق نے جنگ خندق میں لشکر کفار کی عبرت ناک شکست کے بعد بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی معاندانہ کاروائیاں جاری رکھیں اور قبائل عرب کو مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھڑکاتا رہا۔اس کی یہ کاروائیاں ریاست مدینہ کے خلاف کھلا اعلان جنگ تھیں اور جو دشمن مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتا ہے،مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ بھی اس کے خلاف جنگ کریں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پوری قوم پر عام حملہ کرنے کے بجائے چند صحابہ کرام کو بھیج کر اس بدبخت کو قتل کروادیا،تاکہ زیادہ خون خرابہ نہ ہو۔سلام بن ابی الحقیق نے جو راستہ اپنایا تھا،اس کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو ہوا۔ مجرم کو جرم کی سزا ملے تو اس انجام کا ذمہ دار وہ خود ہوتا ہے،نہ کہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کرنے والے"۔[ ضیاء النبی،جلد۷/ص:۶۰۹]
ابو رافع کے باغیانہ کردار کا اعتراف خود مغربی مورخین نے بھی کیا ہے اور اس کے خلاف کی گئی خفیہ کاروائی کو حق تسلیم کیا ہے۔چنانچہ لین پول اپنی کتاب "اسٹڈیز ان موسقیو" کے صفحہ ۶۷/پر لکھتے ہیں:
"ان لوگوں کے خلاف خفیہ کاروائی کی وجہ اس قدر واضح ہے کہ محتاج بیان نہیں،چونکہ مدینہ میں نہ کوئی پولیس تھی نہ عام قانونی عدالتیں اور نہ ہی فوجی عدالتیں،اس وجہ سے محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] کے کچھ پیروکاروں کو ہی سزائے موت نافذ کرنا پڑتی تھی اور یہی بہتر تھا۔یہ کام خاموشی سے انجام پانا چاہئے تھا،کیونکہ کسی شخص کو اس کے قبیلے کے سامنے سرعام سزائے موت دینا زیادہ نزاع ،خونریزی اور انتقام کا باعث بنتا حتی کو پورا شہر اس میں ملوث ہو جاتا۔اگر اس طرح کی کاروائیوں کو خفیہ قتل کا نام دیا جائے تو خفیہ قتل مدینہ کے اندرونی نظام حکومت کا ایک لازمی حصہ تھا"۔
[بحوالہ،متون حدیث پر جدید ذہن کے اشکالات،مصنفہ ڈاکٹر محمد اکرم ورک،ص:۲۸۴]
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ابورافع کا اسلامی ریاست اور مسلمانوں کے خلاف جو باغیانہ کردار تھا،وہی کردار کسی بھی شخص کا کسی بھی ریاست کے خلاف ہوتو اس کی سزا قتل اور پھانسی ہی ہے۔اس لئے اس واقعہ کی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر کسی طرح کا اعتراض کرنا خود اپنی عقل ودانش کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
جب اللہ تعالیٰ دکھتا ہی نہیں تو کیسے مانیں؟ قرآن میں کافروں کو قتل کرنے کا حکم؟ پردہ کیوں؟ قربانی میں جانوروں کو کاٹ کر کیا فائدہ؟ تعدد ازواج عورتوں کے ساتھ ناانصافی ہے؟ طلاق کی ضرورت کیا؟ مرتد کی سزا قتل کیوں؟ اسلامی سزائیں انسانیت کے ساتھ ظلم ہے؟ اسلام میں غلام اور باندیاں یہودی سردار کعب بن اشرف کا قتل قبیلہ عکل یا عرینیہ کے لوگوں کو دردناک سزا