اہل حدیث کا دعویٰ ہے کہ سنی حضرات نے سجدہ میں جانے کا جو طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ پہلے گھٹنہ اور پھر ہاتھ رکھ کر جائے یہ بالکل خلاف حدیث اور خلاف سنت ہے۔ کیونکہ حدیث پاک ہے۔
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو ایسے نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے،اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھ رکھے اپنے گھٹنے سے پہلے۔[سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ،باب کیف یضع رکبتیہ قبل یدیہ،رقم الحدیث: ۸۴۰]
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَضَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ ، وَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكََ
ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھتے تھے اپنے گھٹنوں سے پہلے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔[صحیح ابن خزیمہ،حدیث:۶۲۷]
لہذا ثابت ہوا کہ سنّی حضرات کا عمل خلاف سنت اور خلاف حدیث ہے۔
جواب:یہ ایک بالکل بے بنیاد اور خلاف واقعہ دعوی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل سنت یہی ہے کہ سجدہ میں جاتے وقت پہلے اپنے گھٹنے رکھے پھر ہاتھ۔ اور احادیث کریمہ بھی اسی پر شاہد ہیں اور اسی پر جمہور صحابہ کرام، تابعین اور فقہاءِ کرام جن میں امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، اور ان کے متبعین شامل ہیں ۔ سب کا عمل ہے۔ اس سلسلے میں دلائل مندرجہ ذیل ہیں
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے کو رکھتے اپنے ہاتھوں سے پہلے اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے اپنے گھٹنوں سے پہلے۔[سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ،باب کیف یضع رکبتیہ قبل یدیہ،رقم الحدیث:۸۳۸،سنن الترمذی،کتاب الصلاۃ،باب ماجاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود، حدیث: ۲۶۹]
امام ترمذی اس حدیث کو نقل کرنے بعد فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور فرماتے ہیں کہ:
وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ
ترجمہ:اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ وہ لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ آدمی اپنے ہاتھ رکھے اپنے گھٹنوں سے پہلے اور جب اٹھے تو اپنے ہاتھ اٹھائے اپنے گھٹنوں سے پہلے۔
شیخ الاسلام امام الائمہ محدث ابن خزیمہ سجدہ میں جانے سے متعلق دونوں طرح کی روایتوں میں تطبیق دیتے ہوئے اس کا باب اس طرح سے قائم فرمایا ہے۔
بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الأَمْرَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ قَبْلَ الرُّكْبَتَيْنِ عِنْدَ السُّجُودِ مَنْسُوخٌ ، وَأَنَّ وَضْعَ الرُّكْبَتَيْنِ قَبْلَ الْيَدَيْنِ نَاسِخٌ ، إِذْ كَانَ الأَمْرُ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ قَبْلَ الرُّكْبَتَيْنِ مُقَدَّمًا ، وَالأَمْرُ بِوَضْعِ الرُّكْبَتَيْنِ قَبْلَ الْيَدَيْنِ مُؤَخَّرًا ، فَالْمُقَدَّمُ مَنْسُوخٌ ، وَالْمُؤَخَّرُ نَاسِخٌ.
ترجمہ:یہ باب ہے اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ سجدہ میں جاتے وقت دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھنا منسوخ ہے۔اور دونوں گھٹنہ رکھنا دونوں ہاتھ سے پہلے ناسخ ہے۔کیونکہ دونوں ہاتھ رکھنے کا حکم گھٹنوں سے پہلے ، مقدم ہے۔اور دونوں گھٹنے رکھنے کا حکم ، دونوں ہاتھ رکھنے سے پہلے موخر ہے۔تو مقدم منسوخ ہے اور موخر ناسخ ہے۔ اس کے بعد انہوں بطور دلیل کہ مندرجہ ذیل حدیث کو بیان فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ : كُنَّا نَضَعُ الْيَدَيْنِ قَبْلَ الرُّكْبَتَيْنِ ، فَأُمِرْنَا بِالرُّكْبَتَيْنِ قَبْلَ الْيَدَيْنِ
ترجمہ:حضرت سعد بن أبي وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ہم گھٹنے رکھنے سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھا کرتے تھے، پھر ہمیں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا۔
[صحیح ابن خزیمہ، رقم الحدیث:۶۲۸]
امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس کی تائید میں مختلف روایات وآثار جمع کی ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ بَدَأَ بِرُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ "
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے تو پہلے گھٹنہ رکھتے اپنے ہاتھوں سے پہلے۔[شرح معانی الآثار،کتاب الصلاۃ،باب مایبدء بوضعہ فی السجود،الیدین او الرکبتین،حدیث:۱۵۱۶]
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ بَدَأَ بِوَضْعِ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ "
ترجمہ:حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے تو پہلے اپنے گھٹنے رکھتے اپنے ہاتھوں سے پہلے۔[شرح معانی الآثار،کتاب الصلاۃ،باب مایبدء بوضعہ فی السجود،الیدین او الرکبتین،حدیث:۱۵۱۸]
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ، فَقَالَا: " حَفِظْنَا عَنْ عُمَرَ فِي صَلَاتِهِ أَنَّهُ خَرَّ بَعْدَ رُكُوعِهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَمَا يَخِرُّ الْبَعِيرُ وَوَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ "
ترجمہ:حضرت علقمہ واسود کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نماز سے یہ طریقہ حفظ کیا ہے کہ وہ رکوع کے بعد اپنے گھٹنوں کو رکھتے اپنے ہاتھوں سے پہلے۔[شرح معانی الآثار،کتاب الصلاۃ،باب مایبدء بوضعہ فی السجود،الیدین او الرکبتین،حدیث:۱۵۲۸]
قَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ حُفِظَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَنَّ رُكْبَتَيْهِ، كَانَتَا تَقَعَانِ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَ يَدَيْهِ "
ترجمہ:حضرت ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ زمین پر اپنے گھٹنوں کو رکھتے اپنے ہاتھوں سے پہلے۔[شرح معانی الآثار،کتاب الصلاۃ،باب مایبدء بوضعہ فی السجود،الیدین او الرکبتین،حدیث:۱۵۲۹]
عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الرَّجُلِ، يَبْدَأُ بِيَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ إِذَا سَجَدَ فَقَالَ: " أَوَ يَضَعُ ذَلِكَ إِلَّا أَحْمَقُ أَوْ مَجْنُونٌ "
ترجمہ:مغیرہ کہتے ہیں کہ ہم نےابراہیم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو سجدہ کرتے وقت اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھتا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا ایسا کوئی احمق یا مجنون ہی کر سکتا ہے۔[شرح معانی الآثار،کتاب الصلاۃ،باب مایبدء بوضعہ فی السجود،الیدین او الرکبتین،حدیث:۱۵۳۰]
مذکورہ بالا تمام احادیث وآثار سے ثابت ہوا کہ سجدہ میں جانے کا صحیح طریقہ وہی ہے جو سنی حضرات نے اختیار کر رکھا ہے یعنی کہ پہلے گھٹنے رکھیں جائیں پھر ہاتھ۔
رہی بات اس روایت کی جس میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ "تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو ایسے نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے۔پہلے اپنے ہاتھ رکھے پھر گھٹنہ"
تو اس روایت کا جواب سمجھنے سے پہلے دو باتیں ذہن نشین کر لیں۔جانور میں ہاتھ اور پیر کا مطلب کیا ہے؟ اور اونٹ کیسے بیٹھتا ہے؟
جانور خواہ اونٹ ہو یا بکری وغیرہ ان کے چار پیر ہوتے ہیں دو آگے اور دو پیچھے۔ ان کے آگے والے دوپیر کو ان کا ہاتھ کہا جاتا ہے۔جیسا کہ حدیث پاک ہے:
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا.
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گوشت لایا گیا اور آپ کو دست [یعنی ہاتھ] کا گوشت پیش کیا گیا اورآپ کو دست کا گوشت زیادہ پسند تھا۔تو آپ نے اسے نوچ کر کھایا۔[ترمذی،کتاب الاطعمہ،باب ماجاء فی ای اللحم کان احب الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث:۱۸۳۷]
خلاصہ یہ کہ جانور کے اگلے دونوں پیر کو ان کا ہاتھ مانا جاتا ہے اور پچھلے دونوں کو ان کا پیر۔
اب اس پر غور کریں کہ اونٹ کیسے بیٹھتا ہے تو سب جانتے ہیں کہ اونٹ پہلے اپنے اگلے دونوں پیر[ یعنی اپنے ہاتھ] زمین پر رکھتا ہے اور پھر پچھلے پیر [یعنی گھٹنہ ] زمین پر رکھتا ہے۔
ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب امام طحاوی نے اس روایت کا جو جواب دیا ہے اس کو سمجھئے:
هَذَا الْكَلَامُ مُحَالٌ ; لِأَنَّهُ قَالَ: " لَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ " , وَالْبَعِيرُ إِنَّمَا يَبْرُكُ عَلَى يَدَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: وَلَكِنْ يَضَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ فَأَمَرَهُ هَاهُنَا أَنْ يَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ الْبَعِيرُ , وَنَهَاهُ فِي أَوَّلِ الْكَلَامِ أَنْ يَفْعَلَ مَا يَفْعَلُ الْبَعِيرُ۔
ترجمہ:یہ کلام حضور ﷺ کا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ پہلے کہا گیا کہ "ایسے نہ بیٹھو جیسے اونٹ بیٹھتا ہے" اور اونٹ بیٹھتا ہے اس طور پر کہ وہ اپنے ہاتھ (اگلا پیر) رکھتا ہے پھر گھٹنہ ۔ پھر کہا گیا کہ "پہلے اپنے ہاتھ رکھو گھٹنے سے پہلے" یعنی پہلے جس چیز سے خود منع کیا بعد میں اسی چیز کا حکم دیا۔ لہذا اس کا کلام رسول ﷺ ہونا صحیح نہیں ۔ فافہم وتدبر
اس لئے اس سے اہل حدیث کا استدلال کرنا باطل ہے۔اور صحیح یہی ہے کہ سجدہ میں جاتے وقت پہلے گھٹنے رکھیں جائیں پھر ہاتھ۔یہی اصل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
نماز کی اہمیت وفضیلت نماز پڑھنے کا طریقہ نماز کے شرائط وفرائض نماز کے واجبات اورسنتیں نماز کے مکروہات نماز کے مفسدات سجدہ سہو کے مسائل قراءت میں غلطی کے مسائل نماز جنازہ کے مسائل نماز تراویح کے مسائل نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نماز اشراق اور چاشت نماز توبہ اور تہجد نماز حاجت نماز استخارہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز عیدین کی نماز مسافر کی نماز مریض کی نماز