عشاء سے پہلے چار رکعت پڑھنا،صحیح یا غلط؟



فرض نمازوں سے پہلے اور بعد کی نمازوں کے سلسلے میں اصل مندرجہ ذیل حدیث مبارکہ ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ ثَابَرَ عَلَى ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِى الْجَنَّةِ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ».
ترجمہ:سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمیشہ بارہ رکعت سنت پڑھتا رہے گا اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے ایک مکان بنائے گا، چار رکعت ظہر سے پہلے دو ظہر کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔[ترمذی،کتاب الصلاۃ ،باب ماجاء فیمن صلی فی یوم ولیلۃ ، حدیث :۴۱۴]
اِس حدیث شریف میں عصر اور عشاء سے پہلے کی چار رکعات کا ذکر نہیں ہے،اس لئے اِن دونوں کا شمار سنن راتبہ موکدہ میں نہیں ہوتا، بلکہ مستحب اور نفل کے درجے میں ہوتا ہے۔ پھر عصر سے پہلے کے چار رکعات کا ذکر احادیث مبارکہ میں کیا گیا ہے اور اس سے متعلق مخصوص فضیلت بھی وارد ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں آیا،اُس وقت اللہ کے رسول ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے،اُن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے،آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص عصر سے پہلے چار رکعات نماز[پابندی سے] پڑھے اُسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔[المعجم الاوسط،جزء دوم،باب من اسمہ ابراہیم ، حدیث :۲۵۸۰]
مگر عشاء سے پہلے کے چار رکعات کی مخصوص فضیلت ثابت نہیں ہے۔ہاں نفل کی عمومی فضیلت میں یہ ضرور شامل ہے کہ نوافل قرب الہی کا ذریعہ ہیں۔ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالیشان ہے کہ
بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ - ثُمَّ قَالَ فِى الثَّالِثَةِ - لِمَنْ شَاءَ
ترجمہ:ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے،جو پڑھنا چاہے۔ [ بخاری،کتاب الاذان،باب بین کل اذانین صلوٰۃ،حدیث:۶۲۶]
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ عشاء کی اذان اور اقامت کے درمیان بھی نماز ہے،مگر ضروری نہیں بلکہ جو شخص پڑھنا چاہے پڑھے۔پھر یہ نفلی نماز چاہے تو دو رکعت پڑھے اور چاہے تو چار یا اس سے بھی زیادہ ،یہ سب پڑھنے والے کے اوپر ہے شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
مسند احمد میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
جِئْتُ النبي صلى الله عليه وسلم فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ يُصَلِّي ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ۔
ترجمہ:میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھا،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھ لیا تو آپ کھڑے ہوئے نماز پڑھنے لگے اور[نفلی] نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کیا۔[مسند احمد، سنن الکبریٰ للنسائی،الصلاۃ بین المغرب والعشاء،ج ۱/حدیث:۳۷۹، ۳۸۰۔ ترمذی،حدیث:۳۷۸۱۔صحیح ابن خزیمہ،ج۲/حدیث:۱۱۹۴]
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز سے پہلے بہت سارے سنت غیر موکدہ پڑھے ۔ لھٰذا عشاء سے پہلے دو رکعت سنتیں غیر موکدہ بھی ثابت ہو گئیں عشاء سے پہلے چار رکعت سنت غیر مؤکدہ بھی ثابت ہوگئیں اور عشاء سے پہلے چار سے زیادہ بھی سنت غیر موکدہ ثابت ہو گئیں ۔
فَفِي سنَن سعيد بن مَنْصُور من حَدِيث الْبَراء رَفعه من صَلَّى قبل الْعشَاء أَرْبعا كَانَ كَأَ نَّمَا تهجد من ليلته وَمن صَلَّاهُنَّ بعد الْعشَاء كمثلهن من لَيْلَة الْقدر وَأخرجه الْبَيْهَقِيّ من حَدِيث عَائِشَة مَوْقُوفا وَأخرجه النَّسَائِيّ وَالدَّارَقُطْنِيّ مَوْقُوفا عَلَى كَعْب
ترجمہ:سنَن سعيد بن مَنْصُور میں حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے عشاء سے پہلے چار رکعت پڑھے گویا کہ اس نے اس رات کی تہجد نماز پڑھ لی ۔ [ابن حجر الدراية في تخريج أحاديث الهداية جلد 1 صفحہ 198]
الاختیار لتعلیل المختار کے باب النوافل میں یہ حدیث ہے کہ: عن عائشة أنه - عليه الصلاة والسلام - كان يصلي قبل العشاء أربعا ، ثم يصلي بعدها أربعا ثم يضطجع۔
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے پھر اس کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے پھر لیٹ جاتے ۔
”قیام اللیل للامام المروزی“ میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: عن سعید بن جبیر - رحمہ اللہ- کانوا یستحبون أربع رکعات قبل العشاء الآخرة [قیام اللیل لمحمد نصر المروزي: ۱/۸۸]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: پہلے بزرگ (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین و تابعین رحمہم اللہ) عشاء کی نماز سے قبل چار رکعت پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔
مذکورہ بالا روایات سے استدلال کرتے ہوئے فقہائے امت نے عشاء سے قبل چار رکعت کو سنت غیر مؤکدہ قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں فقہائے کرام کی تصریحات مندرجہ ذیل ہیں۔
نمبر۱: وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ { مَنْ ثَابَرَ عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } وَفَسَّرَ عَلَى نَحْوِ مَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ الْأَرْبَعَ قَبْلَ الْعَصْرِ فَلِهَذَا سَمَّاهُ فِي الْأَصْلِ حَسَنًا وَخَيَّرَ لِاخْتِلَافِ الْآثَارِ ، وَالْأَفْضَلُ هُوَ الْأَرْبَعُ وَلَمْ يَذْكُرْ الْأَرْبَعَ قَبْلَ الْعِشَاءِ فَلِهَذَا كَانَ مُسْتَحَبًّا لِعَدَمِ الْمُوَاظَبَةِ
ترجمہ:[فرض نمازوں سے پہلے اور بعد کی نمازوں کے معاملے میں] اصل حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ قول مبارک ہے کہ آپ نے فرمایا" جس نےدن اور رات میں بارہ رکعات کی پابندی کیا،اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا" اور ان بارہ رکعات کی تفصیل آپ نے بیان فرمایا ۔ مگر اُن میں عصر سے پہلے کی چار رکعات کا ذکر نہیں کیا اسی لئے اس کو" حسن" کہا اور دو کا بھی اختیار دیا اختلاف آثار کی وجہ سے،اور افضل چار ہے۔اور اُس حدیث میں عشاء سے پہلے چار رکعات کا ذکر نہیں کیا اسی لئے وہ مستحب ہوا پابندی نہ ہونے کے سبب۔[ فتح القدیر،کتاب الصلاۃ،باب النوافل]
نمبر۲: إنَّ التَّطَوُّعَ بِالْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعِشَاءِ حَسَنٌ ؛ لِأَنَّ التَّطَوُّعَ بِهَا لَمْ يَثْبُتْ أَنَّهُ مِنْ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ ، وَلَوْ فَعَلَ ذَلِكَ فَحَسَنٌ ؛ لِأَنَّ الْعِشَاءَ نَظِيرُ الظُّهْرِ فِي أَنَّهُ يَجُوزُ التَّطَوُّعُ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا۔
ترجمہ:عشاء سے پہلے چار رکعات نفلی نماز پڑھنا اچھا ہے،اس لئے کہ یہ ثابت نہیں ہے کہ وہ چار رکعات سنت موکدہ میں سے ہے،لہذا اگر کوئی اِسےپڑھے تو اچھا ہے،اس لئے کہ عشاء کی نماز ظہر کی طرح ہے اس بارے میں کہ جس طرح ظہر سے پہلے اور بعد میں نفلی نماز جائز ہے اُسی طرح عشاء سے پہلے اور بعد میں بھی نفلی نماز درست ہے۔[بدائع الصنائع فی تر تیب الشرائع،فصل فی الصلاۃ المسنونۃ،ج:۳/ص:۱۳۰]
نمبر۳: وَأَمَّا الْأَرْبَعُ قَبْلَ الْعِشَاءِ فَذَكَرُوا فِي بَيَانِهِ أَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ أَنَّ التَّطَوُّعَ بِهَا مِنْ السُّنَنِ الرَّاتِبَةِ فَكَانَ حَسَنًا لِأَنَّ الْعِشَاءَ نَظِيرُ الظُّهْرِ فِي أَنَّهُ يَجُوزُ التَّطَوُّعُ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا كَذَا فِي الْبَدَائِعِ
ترجمہ:رہا عشاء سے پہلے کی چار رکعات تو اس کے بارے میں بیان کیا ہے کہ اس کا سنت موکدہ میں سے ہونا ثابت نہیں ہے،پس وہ اچھا ہوگا اس لئے کہ عشاء ظہر کی نظیر ہے اس بارے میں کہ اس سے پہلے اور بعد میں نفلی نماز جائز ہے ایسا ہی بدائع میں ہے۔ [ بحر الرائق فی شرح کنز الدقائق ،الصلاۃ المسنونہ کل یوم،ج:۴/ص:۲۴۲]
نمبر۴: وَلَمْ يَذْكُرْ الْأَرْبَعَ قَبْلَ الْعِشَاءِ فَلِهَذَا كَانَ مُسْتَحَبًّا لِعَدَمِ الْمُوَاظَبَةِ
ترجمہ:اور[سنن راتبہ سے متعلق مشہور حدیث میں نبی کریم نے] عشاء سے پہلے چار رکعات کا ذکر نہیں فر مایا اس لئے وہ مستحب ہوگا،عدم پابندی کے سبب ۔ [الھدایہ،باب النوافل]
نمبر۵: وأما التطوع قبل العشاء، فإن تطوع قبلها بأربع ركعات فحسن
ترجمہ:رہا عشاء سے پہلے کی نفل،تو اگر اس سے پہلے چار رکعات پڑھے تو بہتر ہے۔[ المحیط البرہانی،فصل الحادی والعشرون فی التطوع قبل الفرض وبعدہ]
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عشاء سے پہلے دو پڑھنا بھی صحیح ہے اور چار بھی اور اس سے زیادہ بھی۔رہے وہ لوگ جو چار رکعت پڑھنے والے کے خلاف زبان طعن دراز کرتے ہیں،نادان ہیں۔ اللہ کریم اپنے حبیب مکرم کے طفیل اپنے حضور کثرت سجود کی توفیق ارزانی فر مائے۔ آمین ۔


متعلقہ عناوین



نماز کی اہمیت وفضیلت نماز پڑھنے کا طریقہ نماز کے شرائط وفرائض نماز کے واجبات اورسنتیں نماز کے مکروہات نماز کے مفسدات سجدہ سہو کے مسائل قراءت میں غلطی کے مسائل نماز جنازہ کے مسائل نماز تراویح کے مسائل نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نماز اشراق اور چاشت نماز توبہ اور تہجد نماز حاجت نماز استخارہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز عیدین کی نماز مسافر کی نماز مریض کی نماز



دعوت قرآن