نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا؟



کیا نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے،اورکیا اس کے بغیر نماز جنازہ درست نہیں ہوتی؟
اس مسئلے میں کچھ لو گ اِس بات کے قائل ہیں کہ،ہاں! نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے اور جس طرح عام رکوع اور سجدے والی نماز بغیر سورہ فاتحہ کے نہیں ہوتیں اُسی طرح نماز جنازہ بھی بغیر سورہ فاتحہ کے نہیں ہوتی۔ یہ حضرات اپنے اس دعوے پر مختلف دلائل پیش کرتے ہیں ،وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
دلیل نمبر ۱: حضور نبی کریم نے فرمایا کہ" لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے سورہ فاتحہ کی تلاوت نہیں کی۔[صحیح بخاری،کتاب الاذان،حدیث:۷۵۶] اور بلاشبہ نماز جنازہ بھی ایک قسم کی نماز ہے اس لئے نماز جنازہ بھی سورہ فاتحہ کے بغیر نہیں ہوگی۔
دلیل نمبر ۲: حضرت طلحہ بن عبد اللہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے جنازہ کی نماز پڑھی،تو انہوں نے سورہ فاتحہ[قدرے بلند آواز سے] پڑھی۔[جب لوگوں نے ایسا کرنے کی وجہ ان سے پوچھا تو] انہوں نے فرمایا کہ[ میں نے ایسا اس لئے کیا] تاکہ آپ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ سنت ہے۔ [بخاری،کتاب الجنائز،حدیث:۱۳۳۵]
دلیل نمبر ۳: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر میں آہستہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے،پھر تین تکبیر کہی جائے اور سلام آخر میں پھیرا جائے۔[سنن نسائی،کتاب الجنائز،باب الدعا، حدیث:۱۹۸۹]
دلیل نمبر ۴:حضرت ام شریک انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہمیں نبی کریم نے حکم دیا کہ ہم جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھیں۔[ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی القرأۃ علی الجنازۃ۔حدیث:۱۴۹۵]
یہ حضرات انہیں دلیلوں کی بنیاد پر عوام کو نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنے کی تعلیم دیتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں،ساتھ ہی یہ لوگ فقہائے احناف پر زبان طعن دراز کرتے ہیں اور مختلف قسم کے نامناسب کلمات بولتے رہتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ اِس مسئلے میں احناف کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے،یہ لوگ حدیثوں کو چھوڑ کر اپنی عقل اور قیاس کی پیروی کرتے ہیں،وغیرہ وغیرہ۔
اِس الزام میں کتنی صداقت ہے اس طرف بڑھنے سے پہلے،اِن حضرات کے ذریعے پیش کئے گئے دلائل کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
پہلی بات :اِن لوگوں نے جو پہلی دلیل پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، یعنی اس کے بغیر نماز جنازہ ہوگی ہی نہیں جیسے عام رکوع سجدے والی نماز اس کے بغیر نہیں ہوتی ، جبکہ بقیہ دلیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واجب نہیں بلکہ سنت ہے، یعنی نماز ہو جائے گی۔کوئی شخص قول واجب کا کرے اور دلیل میں سنت پیش کرے،یہ ایک عجیب بات ہے۔
نوٹ: کوئی شخص یہ دعویٰ نہ کرے کہ حدیث میں لفظ سنت سے مراد"دین پر چلنے کا راستہ" یعنی لغوی معنی مراد ہے جس میں فرض ،واجب،سنن،مستحبات سبھی داخل ہیں،لہذا تعجب کی کوئی بات نہیں ۔کیونکہ اس سلسلے کی" آخری بات"جو مذکور ہوں گی اس امکان کو خارج کردیتا ہے،فافہم۔
دوسری بات: دونوں روایات جس میں کہا گیا کہ پہلی تکبیر میں سورہ فاتحہ پڑھنا سنت ہے۔یہ روایات خود اس بات کی ثبوت ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والتسلیم کا یہ فرمان کہ" سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی" اس سے مراد رکوع اور سجدے والی نماز ہے نہ کہ نماز جنازہ۔کیونکہ اگر یہ صحابہ اس حدیث میں جو"نماز" کا لفظ آیا ہے اس میں نماز جنازہ کو بھی شامل مانتے تو یہ کبھی نہ فرماتے کہ یہ سنت ہے بلکہ فرماتے کہ"یہ ضروری " ہےجیسا کہ اِن حضرات نے رکوع اور سجدے والی نماز کے بارے میں فرمایا کہ اُن میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے۔ اور جب یہ طئے ہو گیا کہ وہ حدیث جس میں فرمایا گیا " سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی" اُس میں نماز سے مراد صرف رکوع اور سجدے والی نماز ہے ، تو اس حدیث سے نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کے واجب ہونے کا قول کرنا صحیح نہیں ہے۔
تیسری بات :رکوع اور سجدے والی نماز جس طرح بغیر سورہ فاتحہ کے نہیں ہوتی،اُسی طرح بغیر سورہ ملائے بھی نہیں ہوتی تو پھر اِن حضرات کو چاہئے تھا کہ نماز جنازہ میں سورہ ملانے کو بھی واجب قرار دیتے، مگر وہ ایسا نہیں کرتے،جبکہ امام نسائی نے اس سے متعلق جو روایت نقل کیا ہے اُس میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ ملانے کا بھی ذکر آیا ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھا تو انہوں نے سورہ فاتحہ اور سورہ اتنی بلندآواز سےپڑھا کہ ہم نے اُسے سن لیا،پھر جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور اُن سے اِس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حق ہے اور یہ سنت ہے۔[سنن نسائی،کتاب الجنائز،باب الدعا،حدیث:۱۹۸۷]
آخری بات: حضرت ام شریک انصاریہ والی حدیث،جس میں کہا گیا کہ ہمیں نبی نے جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا، اس سے بھی نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کے واجب ہونے کا قول کرنا صحیح نہیں ہے۔کیونکہ یہ حکم دینا بطور وجوب کے تھا اس پر کوئی دلیل نہیں ہے، اِس کے برخلاف اس کے واجب نہ ہونے پر کثیر دلائل ہیں،سب سے بڑی دلیل تو یہی ہے کہ صحابہ کرام ، تابعین عظام اور ائمہ دین میں سے کسی نے بھی نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کے واجب ہونے کا قول نہیں کیا ،البتہ،اِس مسئلے میں صحابہ کے درمیان ضرور اختلاف رہا کہ"سورہ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں" تو حضرت عبد اللہ بن مسعود،حضرت حسن بن علی۔حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم جواز کا قول کرتے ہیں، اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ نماز جنازہ میں قرآن مجید کی تلاوت نہیں ہے،اور امام مالک اور احناف بھی اسی کے قائل ہیں۔اور اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو صحابہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے،کیونکہ جو صحابہ پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں وہ بطور تلاوت نہیں بلکہ بطور حمد وثنا کہتے ہیں اور جو نہیں پڑھنے کو کہتے ہیں وہ بطور تلاوت منع کرتے ہیں نہ کہ بطور حمد وثناء،لہذا یہاں کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہے۔مگر کسی بھی صحابی یا تابعی یا ائمہ نے اِس کے واجب ہونے کا قول نہیں کیا،لہذا جو بات اجماع صحابہ کے خلاف ہو وہ قابل مسموع نہیں ہو سکتی۔نیز اِس حدیث کے ضعیف ہونے پر ائمہ محدثین کا اتفاق ہے اس لئے بھی اس سے وجوب کا ثبوت ممکن نہیں۔
رہی بات کہ اس بارے میں احناف کا موقف اور دلائل کیا ہیں؟
فقہائے احناف کے نزدیک نماز جنازہ کے بارے میں یہ موقف ہے کہ کل چار تکبیریں کہی جائیں ،پہلے اللہ کریم کی حمد وثناء بیان کی جائے، اور اس میں کوئی خاص لفظ متعین نہیں ہے جن الفاظ کے ساتھ بھی چاہے حمد کرے یہاں تک کہ اگر کوئی سورہ فاتحہ جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد کا بیان ہے،کے ذریعے بھی حمد کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔پھر حضور رحمت عالم پر درود شریف پڑھے ،پھرمیت کے لئے دعا کرے،اور دعا میں بھی کوئی خاص دعا ضروری نہیں ہے بلکہ جو دعا چاہے پڑھے، اور آخر میں سلام پھیر دے۔ اس طریقے پر مندرجہ ذیل دلائل ہیں۔
دلیل نمبر ۱: حَدَّثَنِى يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تُصَلِّى عَلَى الْجَنَازَةِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا لَعَمْرُ اللَّهِ أُخْبِرُكَ أَتَّبِعُهَا مِنْ أَهْلِهَا فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ وَحَمِدْتُ اللَّهَ وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ ثُمَّ أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِى إِحْسَانِهِ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ اللَّهُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلاَ تَفْتِنَّا بَعْدَهُ.
ترجمہ:تر جمہ: حضرت ابو سعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ جنازہ کی نماز کیسے پڑھتے ہیں؟ تو حضرت ابوہریرہ نے کہا،اللہ جل جلالہ کی بقا کی قسم میں تمہیں بتاتا ہوں، میں میت کے گھر سے جنازہ کے ساتھ ہوتا ہوں پھر جب جنازہ رکھ دیا جاتا ہے تو میں تکبیر کہتا ہوں اور اللہ پاک کی حمد بیان کرتا ہوں پھر[دوسری تکبیر کہہ کر] اس کے پیارے نبی پر درود شریف پڑھتا ہوں پھر [تیسری تکبیر کہہ کر اس طرح سے] دعا کرتا ہوں۔یا اللہ! بے شک یہ تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا اور تیرے بندی کا بیٹا ہے،یہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد[ ] تیرے بندے اور رسول ہیں۔[یا اللہ!] تو اِس کا حال خوب جانتا ہے اگر یہ نیک ہے تو اجر وثواب میں اور زیادتی فرما اور اگر گنہ گار ہے تو اس کے گناہوں سے در گزر فرما،یا اللہ! اس کے اجر سے ہمیں محروم نہ فرما اور اس کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال۔ [موطا امام مالک،کتاب الجنائز،باب مایقول المصلی علی الجنائز،حدیث:۵۳۹]
دلیل نمبر ۲: عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ كَانَ إذَا صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ يَبْدَأُ بِحَمْدِ اللهِ وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَحْيَائِنَا وَأَمْوَاتِنَا , وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا , وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا , وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا عَلَى قُلُوبِ خِيَارِنَا.
ترجمہ:حضرت علاء بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ جب نماز جنازہ پڑھاتے تو پہلےاللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے،پھر نبی پر درود بھیجتے پھر یہ دعا کرتے ،یا اللہ! ہمارے زندوں اور مردوں کو بخش دے،ہمارے دلوں میں الفت پیدا فر مادے،ہمارے آپسی حالات کو درست کردے اور ہمارے دلوں کو ہمارے بہترین لوگوں کے دلوں کی طرح کردے۔[مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الجنائز،باب: مَا يُبْدَأُ بِهِ في التَّكْبِيرَةِ الأُولَى فِي الصَّلاَةِ عَلَيْهِ وَالثَّانِيَةِ وَالثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ.،حدیث:۱۱۴۹۴]
دلیل نمبر ۳: عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ فِي التَّكْبِيرَةِ الأُولَى , يُبْدَأُ بِحَمْدِ اللهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ , وَالثَّانِيَةُ صَلاَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم , وَالثَّالِثَةُ دُعَاءٌ لِلْمَيِّتِ , وَالرَّابِعَةُ لِلتَّسْلِيمِ.
ترجمہ:حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلی تکبیر میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جائے،دوسری میں نبی پر درود شریف پڑھی جائے،تیسری میں میت کے لئے دعا کی جائے اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرا جائے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الجنائز،باب: مَا يُبْدَأُ بِهِ في التَّكْبِيرَةِ الأُولَى فِي الصَّلاَةِ عَلَيْهِ وَالثَّانِيَةِ وَالثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ.،حدیث:۱۱۴۹۳]
اِن روایات سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں پہلے حمد ہو پھر درود شریف پھر دعا اور یہی احناف کا مذہب ہے۔رہی بات کہ ہمارے یہاں حمد خاص سورہ فاتحہ یا کسی اور لفظ کے ساتھ ضروری نہیں ہے بلکہ جن الفاظ کے ساتھ بیان کرے،یونہی دعا میں بھی کوئی خاص لفظ ضروری نہیں ہے،اس کی دلیل یہ ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز جنازہ میں ہمارے لئے قرأت متعین کی گئی ہے اور نہ کوئی اور قول،امام کی تکبیر پر تکبیر کہو اور اچھی طرح دعا اور ثناء کرو۔[مجمع الزوائد للہیثمی،ج۳/ص:۳۲/بحوالہ نعمۃ الباری جلد سوم،ص:۴۹۱]
اِن صاف اور صریح دلائل کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ احناف کے پاس اِس مسئلے میں کوئی دلیل نہیں ہے اور یہ لوگ محض اپنے قیاس پر عمل کرتے ہیں، کیسی جھوٹی بات ہے جسے یہ لوگ بغیر کسی شرم وعار کے بولتے ہیں۔ اعاذنا اللہ من الضللۃ والفتن۔
آخر میں یہ بات رہ گئی کہ احناف جو اِس بات کے قائل ہیں کہ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ بحیثیت تلاوت نہ پڑھے ،اس کی کیا دلیل ہے؟ تو اس پر مندرجہ ذیل اخبار وآثار دلیل ہیں۔
نمبر۱: عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ لاَ يَقْرَأُ فِى الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ.
ترجمہ:حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نماز جنازہ میں قرأت نہیں کرتے تھے۔ [موطا امام مالک،کتاب الجنائز،باب مایقول المصلی علی الجنائز،حدیث:۵۴۱]
نمبر۲: عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَقَالَ : مَا كُنْت أَحْسَبُ أَنَّ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ تُقْرَأُ إِلاَّ فِي صَلاَةٍ فِيهَا رُكُوعٌ وَسُجُودٌ.
ترجمہ:حضرت ابو منہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوالعالیہ سےنماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ میرا گمان یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کی تلاوت صرف رکوع اور سجدے والی نماز میں ہوگی۔[مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الجنائز،باب من قال لیس علی الجنازۃ قرأۃ،حدیث:۱۱۵۲۴]
نمبر۳: عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْد هَلْ يُقْرَأُ عَلَى الْمَيِّتِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : لاَ.
ترجمہ: حضرت موسی بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا میں نماز جنازہ میں[سورہ فاتحہ ] تلاوت کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ،نہیں۔[مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الجنائز،باب من قال لیس علی الجنازۃ قرأۃ،حدیث:۱۱۵۲۵]
نمبر۴: عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ لَهُ رَجُلٌ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ؟ قَالَ : لاَ تَقْرَأْ.
ترجمہ:حضرت سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اُن سے پوچھا : کیا میں جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھوں؟ انہوں نے کہا کہ مت پڑھ۔[مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الجنائز،باب من قال لیس علی الجنازۃ قرأۃ،حدیث:۱۱۵۲۶]
نمبر۵: عَنْ أَبِي الْحَصِينِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالاَ : لَيْسَ فِي الْجِنَازَةِ قِرَاءَةٌ.
ترجمہ:حضرت ابوالحصین اور شعبی دونوں فرماتے ہیں کہ جنازہ میں قرأت نہیں ہے۔[مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الجنائز،باب من قال لیس علی الجنازۃ قرأۃ،حدیث:۱۱۵۲۸]


متعلقہ عناوین



نماز کی اہمیت وفضیلت نماز پڑھنے کا طریقہ نماز کے شرائط وفرائض نماز کے واجبات اورسنتیں نماز کے مکروہات نماز کے مفسدات سجدہ سہو کے مسائل قراءت میں غلطی کے مسائل نماز جنازہ کے مسائل نماز تراویح کے مسائل نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نماز اشراق اور چاشت نماز توبہ اور تہجد نماز حاجت نماز استخارہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز عیدین کی نماز مسافر کی نماز مریض کی نماز



دعوت قرآن