میں غوث اعظم کا دھوبی ہوں



کچھ لوگ یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور غوث اعظم کا ایک دھوبی تھا جب وہ انتقال کر گیا اور قبر میں دفن کر دیا تو منکر نکیر سوال کے لیے آئے تو اس نے ہر سوال کے جواب میں کہا کہ میں غوث اعظم کا دھوبی ہوں۔اور اس کی مغفرت ہو گئی۔
کیا یہ واقعہ درست ہے؟ اور کسی معتبر کتاب میں ہے؟

فقیہ ملت مفتی محمدجلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ روایت مذکورہ بے اصل ہے اس کا بیان کرنا درست نہیں لہٰذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ نہ بیان کرنے کا عہد کرے اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے ۔ [فتاوی فقیہ ملت ج ۲؍ص۴۱۱]
شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ حکایت نہ مَیں نے کسی کتاب میں دیکھی ہے اور نہ کسی سے سنی ہے۔ احادیث میں تصریح ہے کہ اگر (مرنے والا) مومن ہوتا ہے تو قبر کے تینوں بنیادی سوالوں کا جواب دے دیتا ہے، منافق یا کافر ہوتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ ہاے ہاے میں نہیں جانتا لہذا یہ روایت حدیث کے خلاف ہے۔ [فتاوی شارح بخاری، کتاب العقائد، ج 2، ص 125، ط دائرۃ البرکات گھوسی، س1433ھ]



متعلقہ عناوین



حج وعمرہ کی فضیلت حج کرنا کس پر فرض ہے؟ حج کی قسمیں حج کرنے کامکمل طریقہ حج کے فرائض ، واجبات اور سنتیں احرام کے مسائل عورتوں کے حج کے بارے میں سوال جواب عمرہ کرنے کا طریقہ حج کی دعائیں حج و عمرہ میں غلطیاں اور ان کے کفارے



دعوت قرآن