قبیلہ عکل یا عرینہ کے لوگوں کا قتل
قبیلہ عکل اور عرینہ کے لوگوں کو جس دردناک طریقے سے سزا دی گئی کہ پہلے ان کے ہاتھ پیر کاٹے گئے،ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور انہیں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا،یہاں تک کہ پانی مانگنے پر پانی تک نہیں دیا گیا۔اس کی وجہ سےکچھ لوگ تو اس واقعہ کو یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں تمام جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا،وہ اس طرح سزا نہیں دے سکتے،یہ ان کی شان رحمت کے خلاف ہے۔اور جو لوگ اس واقعے کی صحت کو تسلیم کرتے ہیں،وہ اس کی وجہ سے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے رحمی کا الزام لگاتے ہیں اور ساتھ ہی نا انصافی کا بھی۔
اس لئَے ہم پہلے اس واقعہ کو بیان کریں گے اور پھر اس پر کئے گئے اعتراض کا جائزہ لیں گے۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - بِلِقَاحٍ ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَانْطَلَقُوا ، فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِىَ النَّبِىِّ - صلى الله عليه وسلم - وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ ، فَجَاءَ الْخَبَرُ فِى أَوَّلِ النَّهَارِ ، فَبَعَثَ فِى آثَارِهِمْ ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِىءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ ، وَأُلْقُوا فِى الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ .
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ عکل یا عرینہ (قبیلوں) کے مدینہ میں آئے اور بیمار ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لقاح میں جانے کا حکم دیا [جہاں بیت المال کے دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں ] اور فرمایا کہ وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لقاح چلے گئے اور جب اچھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے وہ جانوروں کو ہانک کر لے گئے۔ علی الصبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اس واقعہ کی) خبر آئی۔ تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے۔ دن چڑھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کر لائے گئے۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر دی گئیں اور (مدینہ کی) پتھریلی زمین میں ڈال دئیے گئے۔ (پیاس کی شدت سے) وہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔[صحیح بخاری،کتاب الوضوء،باب ابوال الابل والدواب،حدیث:۲۳۳]
اس واقعہ پر یہ اعتراض کیا جاتاہے کہ اگر ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا تھا تو اس کے بدلے آپ بھی ان لوگوں کو قتل کروادیتے،لیکن آپ نے پہلے ان کے ہاتھ پیر کاٹے،ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیروائیں اور پھر انہیں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا،یہ تو رحم کے خلاف ہے اور ناانصافی بھی ہے۔
جواب ان باغی لوگوں کو جو سزائیں دی گئیں،ان کو دیکھنے سے پہلے ان کے جرائم کو سمجھیں جو ان غدار اور باغی لوگوں نے انجام دئیے۔کیونکہ جرم سے آنکھیں بند کر کے صرف سزا کو دیکھنے سے لازمی طور پر وحشت ہوگی۔
جرم نمبر ۱: ان لوگوں نے اسلامک گورنمنٹ کے سربراہ کی طرف سے مقرر کئے گئے لوگوں کو قتل کیا۔
جرم نمبر ۲: بیت المال کے اونٹوں کی چوری کیا،یعنی سرکاری خزانہ کو لوٹا۔
جرم نمبر ۳: اسلام لانے کے بعد مرتد ہوئے،یعنی اسلامی ریاست کے قوانین کے خلاف بغاوت کیا۔
جرم نمبر ۴: ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر کئے گئے چرواہوں کو صرف قتل نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں اور انہیں تڑپا تڑپا کر مارا۔جیساکہ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ: عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ أُولَئِكَ لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرِّعَاءِ ".حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھیں اس لئے ضائع کروائیں کیونکہ ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں کی آنکھیں پھوڑ دی تھیں۔[صحیح مسلم،کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات،باب حکم المحاربین والمرتدین، حدیث:۴۳۶۰]
اب اتنے سارے سنگین جرائم کے مرتکب لوگوں کو سنگین سزا تو ملے گی ہی۔رہی بات یہ کہ ایسا کرناحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت کے خلاف ہے۔یہ حقیقت سے آنکھیں موندھ لینا ہے کیونکہ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم"رحمۃ للعالمین" ہیں۔لیکن ساتھ ہی وہ ریاست مدینہ کے حاکم اعلیٰ بھی ہیں جن کے ذمے اللہ کے نازل کردہ قانون کو نافذ کرنا اور مظلوموں کو ظالم سے مکمل حق اور انصاف دلانا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پڑھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےکبھی اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا لیکن جب کوئی اللہ کے حدوں میں سے کو حد توڑتا تھا تو آپ اللہ کے لئے اس پر سزا نافذ فرماتے تھے۔اور ان لوگوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بس وہی کیا جو ان ظالموں اور احسان فراموش لوگوں نے کیا تھا جیسا کہ علامہ بدر الدین عینی نے "عمدۃ القاری" میں بیان فرمایا کہ
"فقطعوا يده ورجله وغرز والشوك في لسانه وعينيه حتى مات ففعل بهم النبي كذلك"ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے حضرت یسار کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے،ان کی زبان اور آنکھ میں کانٹے چھبا دئیے اور ان کو تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا یہاں تک وہ انتقال کر گئے،تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔[عمدۃ القاری،شرح بخاری]
اس لئے اسے بے رحمی یا نا انصافی کہنا یا تو حقیقت سے بے خبری کی وجہ سے ہے،جس کا علاج جاننا ہے۔ یا پھر محض بغض وعناد کی وجہ سے ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔
آج کی دنیا میں سنگین سے سنگین ترجرائم کے ارتکاب کا گراف دن بدن بڑھتا جا رہا ہے،کیونکہ جھوٹی انسانیت کے نام پر مجرموں سے ناروا ہمدردی نے ان کے حوصلے بلند کر دئیے ہیں اور نتیجے میں ہر دن جرائم پیشہ لوگ انسانیت کی حرمت کو پامال کر رہے ہیں اس کے باوجود ماڈرنزم کا بھوت لوگوں کے سروں سے نہیں اتر رہا ہے۔مگر اسلام جو حقیقی انسانیت اور امن و آشتی کا علمبردار ہے،مجرم کو اس کے جرم کی قرار واقعی سزا دیتا ہے اور مجرم سے ہمدردی کو امن وآشتی سے دشمنی کے مترادف سمجھتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ قاتل کا سر بلاتامل قلم کیا جائے کیونکہ اس طرح تم ایک مجرم جان کو ختم کر کے ہزاروں جانوں کو محفوظ کر لوگے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے " وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ" ائے عقل والو! قصاص لینے میں تمہارے لئے زندگی ہے۔[سورہ بقرہ،آیت:۱۷۹]
حضور آقائے رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شرکش اور باغیوں کے خلاف یہ سخت اقدامات اس لئے فرمائے تاکہ یہ واقعہ قتل وغارت گیری کرنے والوں کے لئے نشان عبرت بن جائے اور وہ اسلامی ریاست میں کسی بھی آدمی کے جان ومال سے کھیلنے کی جسارت نہ کر سکیں۔
جب اللہ تعالیٰ دکھتا ہی نہیں تو کیسے مانیں؟ قرآن میں کافروں کو قتل کرنے کا حکم؟ پردہ کیوں؟ قربانی میں جانوروں کو کاٹ کر کیا فائدہ؟ تعدد ازواج عورتوں کے ساتھ ناانصافی ہے؟ طلاق کی ضرورت کیا؟ مرتد کی سزا قتل کیوں؟ اسلامی سزائیں انسانیت کے ساتھ ظلم ہے؟ اسلام میں غلام اور باندیاں یہودی سردار کعب بن اشرف کا قتل رئیس التجار ابو رافع کا قتل