کعب بن اشرف کا قتل کیوں ہوا؟



دشمنان اسلام خاص طور سے جن تین واقعات کی وجہ سے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر آتنک اور بے رحمی کا الزام لگاتے ہیں وہ یہ ہیں۔یہودی سردار کعب بن اشرف کا قتل،رئیس التجار ابورافع سلام بن ابی الحقیق کا خفیہ قتل اور قبیلہ عرینیہ کے لوگوں کے ہاتھ پیر کاٹ دینا ، ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیرنا اور تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے چھوڑدینا یہاں تک پانی مانگنے پر بھی پانی نہیں دینا۔
ان واقعات کو جب جدید مغربی افکار ونظریات سے متأثر مسلم دانشوران اور خود کوروشن خیال تصور کرنے والےلوگ کتب احادیث میں پڑھتے ہیں تو حقیقت حال اور اصل وجوہات کی تحقیق کی زحمت اٹھائے بغیر کچھ لوگ تو سرے سے ان واقعات کا انکار ہی کر دیتے ہیں جب کہ یہ واقعات صحیح بخاری ومسلم کے صحیح ترین اسناد سے مروی ہیں۔اور کچھ لوگ مغربی مفکرین کی ہمنوائی کرتے ہوئے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر باطل اعتراضات کا طومار باندھنے لگتے ہیں،اور ایک بڑاطبقہ روایات کا انکار کرتا ہے اور نہیں اعتراض کرتا ہے مگر وہ سخت ذہنی الجھن محسوس کرتا ہے۔ یہ سب کچھ واقعہ کے اصل پسِ منظر اور حقیقت کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے ہم اس مضمون میں پہلے اُن واقعات کا ذکر کریں گے پھر اس کا پسِ منظر اور ان وجوہات کو بیان کریں گے جن کی وجہ سے یہ واقعات رونما ہوئے۔
یہودی سردار کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ: عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ». فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ « نَعَمْ ». قَالَ ائْذَنْ لِى فَلأَقُلْ قَالَ « قُلْ ». فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ وَذَكَرَ مَا بَيْنَهُمَا وَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَرَادَ صَدَقَةً وَقَدْ عَنَّانَا. فَلَمَّا سَمِعَهُ قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ. قَالَ إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ الآنَ وَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَىِّ شَىْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ - قَالَ - وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ تُسْلِفَنِى سَلَفًا قَالَ فَمَا تَرْهَنُنِى قَالَ مَا تُرِيدُ. قَالَ تَرْهَنُنِى نِسَاءَكُمْ قَالَ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ أَنَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا قَالَ لَهُ تَرْهَنُونِى أَوْلاَدَكُمْ. قَالَ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنَ فِى وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ. وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللأْمَةَ - يَعْنِى السِّلاَحَ - قَالَ فَنَعَمْ. وَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِالْحَارِثِ وَأَبِى عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ فَجَاءُوا فَدَعَوْهُ لَيْلاً فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ غَيْرُ عَمْرٍو قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ إِنِّى لأَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ صَوْتُ دَمٍ قَالَ إِنَّمَا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعُهُ وَأَبُو نَائِلَةَ إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِىَ إِلَى طَعْنَةٍ لَيْلاً لأَجَابَ. قَالَ مُحَمَّدٌ إِنِّى إِذَا جَاءَ فَسَوْفَ أَمُدُّ يَدِى إِلَى رَأْسِهِ فَإِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَدُونَكُمْ قَالَ فَلَمَّا نَزَلَ نَزَلَ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ فَقَالُوا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الطِّيبِ قَالَ نَعَمْ تَحْتِى فُلاَنَةُ هِىَ أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ. قَالَ فَتَأْذَنُ لِى أَنْ أَشُمَّ مِنْهُ قَالَ نَعَمْ فَشُمَّ. فَتَنَاوَلَ فَشَمَّ ثُمَّ قَالَ أَتَأْذَنُ لِى أَنْ أَعُودَ قَالَ فَاسْتَمْكَنَ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ دُونَكُمْ. قَالَ فَقَتَلُوهُ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اشرف کی ذمہ داری کون لے گا، اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔انہوں نے عرض کی: مجھے اجازت دیجئے کہ میں (یہ کام کرتے ہوئے اس کے ذہن کو الجھانے کے لئے) کوئی بات کہہ لوں۔ آپ نے فرمایا:کہہ لینا۔ چنانچہ وہ اس کے پاس آئے، بات کی اور باہمی تعلقات کا تذکرہ کیا اور کہا: یہ آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) صدقہ (لینا) چاہتا ہے اور ہمیں تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ جب اس نے یہ سنا تو کہنے لگا: اللہ کی قسم! تم اور بھی اکتاؤ گے۔ انہوں نے کہا: اب تو ہم اس کے پیروکار بن چکے ہیں اور (ابھی) اسے چھوڑنا نہیں چاہتے یہاں تک کہ دیکھ لیں کہ اس کے معاملے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے کچھ ادھار دو۔ اس نے کہا: تم میرے پاس گروی میں کیا رکھو گے؟ انہوں نے جواب دیا: تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: اپنی عورتوں کو میرے پاس گروی رکھ دو۔ انہوں نے کہا: تم عرب کے سب سے خوبصورت انسان ہو، کیا ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس گروی رکھیں؟ اس نے ان سے کہا: تم اپنے بچے میرے ہاں گروی رکھ دو۔ انہوں نے کہا: ہم میں سے کسی کے بیٹے کو گالی دی جائے گی تو کہا جائے گا: وہ کھجور کے دو وسق کے عوض گروی رکھا گیا تھا، البتہ ہم تمہارے پاس زرہ یعنی ہتھیار گروی رکھ دیتے ہیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ انہوں نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ حارث، ابوعبس بن جبر اور عباد بن بشر کو لے کر اس کے پاس آئیں گے۔ کہا: وہ لوگ رات کے وقت آئے اور اسے آواز دی تو وہ اتر کر ان کے پاس آیا۔ اس کی بیوی اس سے کہنے لگی: میں ایسی آواز سن رہی ہوں جیسے وہ خون (کے طلبگار) کی آواز ہو۔ اس نے کہا: یہ تو محمد بن مسلمہ اور اس کا دودھ شریک بھائی ابونائلہ ہیں اور کریم انسان کو رات کے وقت بھی کسی زخم (کے مداوے) کی خاطر بلایا جائے تو وہ آتا ہے۔ محمد (بن مسلمہ) نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا: جب وہ آئے گا، میں اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھاؤں گا، جب میں اسے خوب اچھی طرح جکڑ لوں تو وہ تمہارے بس میں ہو گا (تم اپنا کام کر گزرنا۔) جب وہ نیچے اترا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں آپ سے عطر کی خوشبو آ رہی ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میرے نکاح میں فلاں عورت ہے، وہ عرب کی سب عورتوں سے زیادہ معطر رہنے والی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں اس (خوشبو) کو سونگھ لوں؟ اس نے کہا: ہاں، سونگھ لو۔ تو انہوں نے (سر کو) پکڑ کر سونگھا۔ پھر کہا: کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں اسے دوبارہ سونگھ لوں؟ کہا ہاں، تو انہوں نے اس کے سر کو قابوکر لیا، اور اپنے ساتھیوں سےکہا: یہ اب تمہارے بس میں ہے۔ تو ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا۔[صحیح مسلم،کتاب الجہاد والسیر،باب قتل کعب بن الاشرف طاغوت الیھود،حدیث:۴۶۶۴۔صحیح بخاری،کتاب المغازی،باب قتل کعب بن الاشرف،حدیث:۴۰۳۷]
اس حدیث شریف میں کعب بن اشرف کے قتل کی جووجہ بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے" لیکن وہ کیا تکلیف اور اذیت تھی جو اس نے پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی اور اس کی کیا کیا بدمعاشیاں تھیں جن کی وجہ سے حضور نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا،اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔
ہم ذیل کے سطور میں کعب بن اشرف کا خاندانی پس منظر اور مسلمانوں کے ساتھ اس کے بغض وعناد کا حال بیان کریں گے جس کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا۔
مشہور یہودی سردار اور شاعر کعب بن اشرف کا باپ اشرف مکہ کے قبیلہ"طے" سے تھا۔قتل کا ارتکاب کر کے انتقام کے ڈر سے مدینہ چلا آیا اور یہاں آباد یہودی قبیلہ "بنونضیر" کا حلیف بن کر اس قدر عزت اور رسوخ پیدا کر لیا کہ رئیس التجار ابو رافع سلام بن ابی الحقیق یہودی سردار کی لڑکی عقیلہ سے شادی کی۔اسی کے بطن سے کعب پیدا ہوا۔ اس دو طرفہ رشتہ داری کی وجہ سے کعب یہود اور عرب دونوں سے برابر کا تعلق رکھتا تھا۔رفتہ رفتہ مالداری کی وجہ سے عرب کے تمام یہودیوں کا سردار بن گیا۔ اس کو اسلام اور مسلمانوں سے سخت بغض وعداوت تھی۔بدر کی لڑائی میں جب کفار مکہ و سردارانِ قریش مارے گئے اور حضرت زید بن حارثہ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما مسلمانوں کو فتح کی خوشخبری دینے کے لئے مدینہ آئے اور بدر میں قتل کئے جانے والوں کا نام لے لے کر بتانے لگے تو یہ ان کی تکذیب کرتا اور کہتا کہ اگر قریش کے سردار مار ڈالے گئے ہیں تو اب زندہ رہنا بے کار ہے،زندگی سے بہتر موت ہے۔پھر جب اس کو ان لوگوں کے مارے جانے کا یقین ہو گیا تو اس کے باوجود کے یہودیوں کا مسلمانوں کے ساتھ امن کا معاہدہ تھا،وہ مسلمانوں کے دشمنوں کی تعزیت کے لئے مکہ گیا اور بدر میں قتل کئے جانے والے لوگوں کے لئے پردرد مرثیے کہا،جن میں مسلمانوں کے خلاف انتقام لینے کی ترغیب ، کافروں کی تعریف اور عام مسلمانوں کی مذمت اور برائی بیان کی گئی تھی۔وہ لوگوں کو جمع کر نہایت درد سے مرثیے سناتا،خود روتا اور لوگوں کو رلاتاتھا۔اس نے اپنی شاعری سے مکہ اور قبائل عرب میں مسلمانوں کے خلاف انتقام کی آگ بھڑ کادی۔ایک روایت کے مطابق اس نے مکہ میں ۷۰ یا ۴۰/ یہودیوں کو لے گیا تاکہ حضور کے خلاف قریش مکہ سے معاہدہ کرے ،جب کہ یہودیوں کا مسلمانوں سے معاہدہ تھا۔مسلمانوں سے دفاعی معاہدے کی وجہ سے کعب بن اشرف کا اہل مکہ کے پاس جانے کا کوئی جواز نہیں نہیں تھا لیکن وہ ابو سفیان کو حرم میں لے کر گیا اور کعبہ کا پردہ پکڑ کر معاہدہ کیا کہ ہم بدر کا انتقام ضرور لیں گے۔
جب واپس مدینہ آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی میں کھلے عام شاعری کرنا اور لوگوں کو آپ اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کیا۔اس نے اپنے اشعار میں مسلمان عورتوں کی عزت وناموس پر ناپاک حملے کئے۔ان سب کے باوجود کعب کے دل میں لگی مسلمانوں سے نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی تو اس نے حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو چپکے اور دھوکے سے قتل کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ چنانچہ علامہ ابن حجر فتح الباری میں بیان کرتے ہیں کہ۔

سببا آخر وهو أنه صنع طعاما وواطأ جماعة من اليهود أنه يدعو النبي صلى الله عليه و سلم إلى الوليمة فإذا حضر فتكوا به ثم دعاه فجاء ومعه بعض اصحابه فأعلمه جبريل بما أضمروه بعد أن جالسه فقام فستره جبريل بجناحه فخرج فلما فقدوه تفرقوا فقال حينئذ من ينتدب لقتل كعب
کعب بن اشرف نے کچھ اور لوگوں کے ساتھ مل کر ولیمہ کے کھانے کی دعوت دی اور کچھ یہودیوں کو متعین کر دیا کہ جب آپ تشریف لائیں تو دھوکے سے آپ کو قتل کر دے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعوت میں تشریف لے گئے۔حضرت جبرئیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اطلاع دیا اور آپ کو اپنے پروں سے چھپا لیا،آپ مدینہ واپس تشریف لے آئے،لیکن کسی کو آپ کے آنے کی خبر نہیں ہوئی۔
جب اس کی فتنہ انگیزی اور بد معاشی ساری حدوں کو پار کر گیا تو حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابہ سے مشورہ کیا اور اسے قتل کرادیا۔
کعب بن اشرف کی اسلام مخالف سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد اس پر جو فرد جرم عائد ہوتی ہے اس کی تفصیل درج ذیل ہیں۔
۱: کعب نے عہد وپیمان توڑا
۲: قریش مکہ اور عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارا
۳: حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف سر عام اپنی شاعری کے ذریعے برائی بیان کیا۔
۴: مسلمان عورتوں کی عزت وناموس پر ناپاک حملے کیا
۵: مسلمانوں کے نبی اور ریاست مدینہ کے سربراہ کو قتل کرنے کی ناپاک کوشش کیا۔
کعب بن اشرف کے جرائم کا تقاضا یہ تھا کہ آپ اس کے اور اس کی پوری قوم کے خلاف اعلان جنگ کرتے اور جو لوگ بھی باغیانہ سر گرمیوں میں ملوث ہیں تمام افراد کو سخت سزا دیتے ۔[اور ایسا آپ آسانی کے ساتھ کر بھی سکتے تھے،جیسے بنوقینقاع ،بنو نضیر اور خیبر والوں کے ساتھ کیا] مگر اس کے باوجود آپ نے جنگ کا اعلان کر کے اس کی پوری قوم کو سزا نہیں دیا بلکہ خفیہ طور سے صرف اسے قتل کرا دیا کیونکہ عام لوگ اس کے تابع تھے اور اصل سرغنہ یہی تھا۔ اس طرح سے اِس کعب کی فتنہ گری اور فساد کو ہمیشہ ہمیش کے لئے ختم فرما دیا۔
اب میں پوری دنیا کے سنجیدہ لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ بتائیں کہ ایک شخص جو اپنا قومی معاہدہ توڑتا ہے،دشمنوں سے ساز باز کرتا ہے،اپنے وطن کے لوگوں کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکاتا ہے اور اسٹیٹ کے سربراہ کو قتل کرنے کی ناپاک کوشش کرتا ہے۔اس کی سزا کیا ہونی چاہئے؟ یقینا دنیا کی ہر حکومت کے قانون میں ایسے باغی اور مفسد لوگوں کی سزا قتل ہی ہے۔ پھر اس واقعہ کی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر آتنک کا الزام لگانا،کیا انصاف ہے ؟ نہیں بلکہ ایسی بات صرف ایک آتنکی ہی بول سکتا ہے۔



متعلقہ عناوین



جب اللہ تعالیٰ دکھتا ہی نہیں تو کیسے مانیں؟ قرآن میں کافروں کو قتل کرنے کا حکم؟ پردہ کیوں؟ قربانی میں جانوروں کو کاٹ کر کیا فائدہ؟ تعدد ازواج عورتوں کے ساتھ ناانصافی ہے؟ طلاق کی ضرورت کیا؟ مرتد کی سزا قتل کیوں؟ اسلامی سزائیں انسانیت کے ساتھ ظلم ہے؟ اسلام میں غلام اور باندیاں رئیس التجار ابو رافع کا قتل قبیلہ عکل یا عرینیہ کے لوگوں کو دردناک سزا



دعوت قرآن